Advertisement

ایبٹ آباد میں دل دہلا دینے والا سانحہ: معصوم بچوں کی جانیں تیز رفتار ڈمپر کی نذر

 

Advertisement

ایبٹ آباد میں دل دہلا دینے والا سانحہ: معصوم بچوں کی جانیں تیز رفتار ڈمپر کی نذر

ایبٹ آباد کے باسیوں کے لیے جمعہ کا دن ایک المناک حادثہ لے کر آیا۔ سکول جانے والے معصوم بچوں کو کون جانتا تھا کہ وہ اپنی صبح کی خوشیوں کے ساتھ واپس نہیں لوٹیں گے۔ ماں کی دعاؤں اور والدین کی امیدوں کے سائے تلے نکلنے والے یہ ننھے فرشتے اچانک ایک تیز رفتار ڈمپر کی زد میں آ گئے، جس نے ان کی ہنسی ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی۔

Advertisement

یہ سانحہ ایبٹ آباد کے ایف بی آر آفس کے قریب پیش آیا، جہاں ایک بھاری ڈمپر نے سکول کے آٹھ بچوں کو روند ڈالا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین معصوم بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیے گئے۔ جان سے جانے والوں میں دو بچیاں اور ایک بچہ شامل ہیں۔

بچوں کے خواب ادھورے رہ گئے

یہ وہ بچے تھے جو صبح سکول کے لیے تیار ہو کر نکلے تھے۔ کوئی ماں سے ضد کر کے آیا تھا، کوئی محفل میلاد میں حصہ لینے کی خوشی میں، تو کوئی جمعے کے دن کی جلدی چھٹی اور آنے والے ویک اینڈ کے مزے سوچ رہا تھا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کے معصوم چہروں پر خوشی کے جو خواب تھے، وہ ایک لمحے میں خون میں لت پت یونیفارم کے ساتھ بکھر گئے۔

والدین، جو شام کو اپنے بچوں کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے، اب ان کی میتوں کے سامنے بین کر رہے ہیں۔ یہ لمحہ کسی بھی والدین کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔

ذمہ داری کس کی ہے؟

یہ پہلا حادثہ نہیں ہے جب سکول اوقات میں بھاری گاڑیاں شہر میں داخل ہوئی ہوں۔ ٹریفک پولیس کی غفلت اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سکول ٹائم میں ٹرکوں اور ڈمپرز پر پابندی ہے تو پھر یہ بھاری گاڑیاں سڑکوں پر کیوں نظر آتی ہیں؟

ایسے حادثات نہ صرف انسانی زندگیاں نگلتے ہیں بلکہ شہریوں کے دلوں میں خوف بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ والدین اب اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ یہ المیہ انتظامیہ کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔

عوامی ردعمل اور مطالبات

حادثے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اور والدین انتظامیہ سے سخت سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب تک معصوم زندگیاں سڑکوں پر یوں ضائع ہوتی رہیں گی؟ ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی نے زخمی بچوں کو اسپتال پہنچایا، مگر کھو جانے والی جانیں واپس نہیں آ سکتیں۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ بھاری گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر ایسے المناک حادثے دوبارہ پیش آ سکتے ہیں۔

سبق اور احتیاط

یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی صرف ایک ضابطہ نہیں بلکہ انسانی زندگیاں بچانے کا ذریعہ ہے۔ اگر وقت پر پابندیاں عائد کی جاتیں اور نگرانی بہتر ہوتی تو شاید یہ بچے آج زندہ ہوتے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے سکول وینز اور ٹرانسپورٹ کے انتخاب میں احتیاط کریں۔

نتیجہ

ایبٹ آباد میں پیش آنے والا یہ دلخراش حادثہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ معصوم بچوں کی زندگیاں کسی بھی ترقی یا لاپرواہی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری اور سخت اقدامات اٹھائیں تاکہ آئندہ کوئی والدین اپنی اولاد کو یوں سڑک پر کھو نہ بیٹھیں۔

Leave a Comment