Advertisement

لاہور: شوہر کی غیرموجودگی میں بھابھی سے زیادتی کا ہولناک واقعہ

لاہور: شوہر کی غیرموجودگی میں بھابھی سے زیادتی کا ہولناک واقعہ

لاہور کے ایک نواحی علاقے میں ایک ایسا انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک خاتون کو اس کے اپنے ہی دیور نے شوہر کی غیرموجودگی میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ ہولناک واقعہ نہ صرف خاندانی تعلقات کے تقدس کو پامال کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور اخلاقی گراوٹ کا بھیانک چہرہ بھی پیش کرتا ہے۔ یہ خبر سن کر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔

Advertisement

واقعہ کی تفصیلات

پولیس ذرائع کے مطابق، یہ زیادتی کا واقعہ لاہور کے ایک پوشیدہ علاقے میں اس وقت پیش آیا جب متاثرہ خاتون کا شوہر ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس کا دیور، جو مبینہ طور پر پہلے بھی کئی بار خاتون کو ہراساں کر چکا تھا، گھر میں داخل ہوا۔ اس نے زبردستی خاتون کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ متاثرہ خاتون نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن ملزم نے اسے دھمکیاں دیں اور اس کی آواز کو دبا دیا۔    واقعہ کے بعد، ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ متاثرہ خاتون نے انتہائی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو فون پر اطلاع دی، جو فوراً لاہور واپس آیا۔ اس کے بعد، خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ تھانے جا کر پولیس کو واقعہ کی تمام تفصیلات بتائیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

Advertisement

پولیس کا کردار اور فوری کارروائی: انصاف کی امید

متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی حساس نوعیت کا کیس ہے اور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف ملے۔ اس کے ساتھ ہی، پولیس نے فارنسک شواہد بھی جمع کیے ہیں تاکہ کیس کو عدالت میں مضبوط بنایا جا سکے۔

معاشرتی رویے اور ذمہ داریاں: ایک گہرا سماجی مسئلہ

یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے ان گہرے زخموں کو بے نقاب کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ جہاں بہن، بھائی، باپ اور ماں کے رشتے کو مقدس مانا جاتا ہے، وہاں ایسے گھناؤنے جرائم کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے جو گھریلو تشدد اور جرائم کو روکنے میں ناکام ہے۔ عوام نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ملزم کو سخت ترین سزا دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔   تاہم، یہ سماجی مسئلہ صرف انصاف کے مطالبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

  • خاندانی اقدار کی تعلیم: ہمیں اپنے بچوں کو شروع سے ہی خاندانی رشتوں کی اہمیت اور تقدس سکھانا چاہیے۔ دیور اور بھابھی کا رشتہ بھی احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
  • نفسیاتی مشاورت: ایسے جرائم کے پیچھے اکثر نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے نفسیاتی مشاورت اور علاج کی فراہمی ضروری ہے۔
  • قانونی آگاہی: خواتین کو اپنے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ایسے حالات میں خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ، خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قوانین کو مزید سخت بنانا چاہیے۔
  • اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی اور سماجی گراوٹ ایک تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ جب گھر ہی غیر محفوظ ہو جائے، تو کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہتی۔ اس ہولناک واقعہ کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے اور ملزم کو ایسی سزا دی جائے کہ کوئی دوبارہ ایسے جرم کی جسارت نہ کرے۔

Leave a Comment