ماں کو گالی کیوں دی… دوست کے ہاتھوں دوست کی زندگی لے لی، قاتل گرفتار
کولہاپور کے ہنومان نگر علاقے سے ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ایک معمولی جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ ایک دوست کے ہاتھوں دوسرے دوست کی زندگی چلی گئی۔ پولیس نے اس کیس کو صرف چار گھنٹوں میں حل کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کہانی غصے اور انتقام کی ہے، جس کا انجام انتہائی افسوسناک ہوا۔
غصے میں آکر زندگی لے لینے کا واقعہ
پولیس کی تفتیش کے مطابق، مقتول موہن پوار اور ملزم چندرکانت کیداری شیلکے (عمر 73 سال) کے درمیان بات چیت کے دوران اچانک جھگڑا ہو گیا۔ جھگڑے کی وجہ یہ تھی کہ موہن پوار نے چندرکانت کی ماں کو گالی دی۔ یہ سن کر 73 سالہ چندرکانت شدید ناراض ہو گیا اور اس نے طیش میں آ کر ایک تیز دھار والے ہتھیار سے موہن کا گلا کاٹ کر اس کی زندگی لے لی۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بعض اوقات زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ چندرکانت، جو خود ایک بزرگ شہری تھا، اس توہین کو برداشت نہ کر سکا اور اپنے غصے پر قابو کھو بیٹھا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک شخص کی موت کا سبب بنا بلکہ یہ معاشرتی اقدار کی گراوٹ کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک مقدس رشتے کی توہین پر اتنا سنگین ردعمل سامنے آیا۔
شواہد مٹانے کی ناکام کوشش
زندگی لے لینے کے بعد، ملزم نے اپنے جرم کو چھپانے اور شواہد مٹانے کے لیے مقتول کے کمرے کو آگ لگا دی۔ اس کا خیال تھا کہ آگ سے تمام ثبوت جل کر ختم ہو جائیں گے، لیکن اس کی یہ چال کامیاب نہیں ہوئی۔ مقامی لوگوں نے کمرے سے دھواں اور آگ کی لپٹیں نکلتی دیکھ کر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پا کر تفتیش کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی، فارنسک ٹیم نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، جو بعد میں ملزم کی گرفتاری میں معاون ثابت ہوئے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے نمونے، انگلیوں کے نشانات اور دیگر اشیاء نے تفتیش کا رخ درست سمت میں موڑ دیا۔
پولیس کی برق رفتار کاروائی اور گرفتاری
جونا راجواڑہ پولیس اور لوکل کرائم انویسٹی گیشن برانچ نے اس کیس میں انتہائی تیزی سے پولیس کارروائی کی۔ انہوں نے صرف چار گھنٹے کے اندر اندر اس پورے معاملے کو حل کر لیا۔ پولیس نے ملزم چندرکانت شیلکے کو اس کی رہائش گاہ سے فوری گرفتاری کے بعد اس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ تفتیش کاروں نے اس کی نشاندہی اس کے کپڑوں پر لگے خون کے نشانات اور موقع پر موجود دوسرے شواہد کی مدد سے کی، جس نے اس کے جرم کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس برق رفتار کارروائی نے نہ صرف انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ لوگوں کا پولیس پر اعتماد بھی بحال ہوا۔
معاشرے کے لیے ایک سبق
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معمولی جھگڑا بھی کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب لوگ غصے اور جذبات پر قابو کھو بیٹھیں۔ ہمیں اپنے رشتوں میں صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ اس واقعہ نے پورے علاقے میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ لوگ اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایک دوست، جو کہ عمر رسیدہ بھی تھا، اتنی شدید کارروائی کیسے کر سکتا ہے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں الفاظ کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا چاہیے، کیونکہ ایک لمحے کا غصہ اور بے احتیاطی پوری زندگی کو تباہ کر سکتی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں غصہ انسان کو اس حد تک اندھا کر سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں دیں۔