ایک استاد کا گھناؤنا کھیل: مہاراشٹر میں محبت، فریب اور گرفتاری
ڈومبیولی، مہاراشٹر سے ایک حیران کن سماجی اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک بظاہر قابل احترام استاد کو محبت، فریب اور تشدد کے گھناؤنے کھیل کے ذریعے کئی خواتین کی زندگیوں کو تباہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ایک دھوکے باز شخص کی کہانی ہے جس نے بھروسے کا استحصال کیا اور اب اپنے جرائم کی قیمت چکا رہا ہے۔
فریب کا آغاز
الھاس نگر کے ایک معروف اسکول میں پڑھانے والے راہل تیواری کی کہانی 14 سال قبل شروع ہوئی۔ راہل نے محبت کے جھوٹے وعدے کر کے ایک خاتون استاد کو اپنے جال میں پھنسایا۔ دونوں ایک لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے لگے اور بعد میں ان کا ایک بیٹا بھی ہوا۔ تاہم، بچے کی پیدائش کے بعد راہل نے بے رحمی سے اسے چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ بغیر شادی کے ساتھ رہنے کے خطرات اور تعلقات کے ختم ہونے پر جذباتی نقصانات کو اجاگر کرتا ہے۔
بدسلوکی اور دھوکے کا ایک سلسلہ
راہل کا دل مطمئن نہ ہوا، اور جلد ہی اس نے ایک اور شکار کی تلاش شروع کر دی۔ اس نے دوسری خاتون سے شادی کر لی، لیکن یہ رشتہ بھی زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ راہل نے اپنی بیوی کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے تنگ آ کر وہ اسے چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئیں۔ اس کے اعمال خواتین کے خلاف تشدد کے وسیع سماجی مسئلے کی ایک افسوسناک عکاسی ہیں۔ راہل یہیں نہیں رکا۔ اس نے ایک تیسری خاتون سے بھی محبت کے جھوٹے وعدے کیے اور اسے بھی دھوکہ دیا۔
پولیس کی تفتیش اور چونکا دینے والے انکشافات
پہلی متاثرہ، ایک بہادر ٹیچر، نے بالآخر مانپاڈا پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے راہل کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران، حیران کن حقائق سامنے آئے۔ یہ پتہ چلا کہ راہل 2011 سے اس فریب کاری کے نمونے میں ملوث تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے مزید کئی خواتین کو اپنا شکار بنایا ہو گا اور انہوں نے اپنی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیسے جیسے معاملہ گہرا ہوتا جائے گا، مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئیں گے۔
معاشرے کے لیے ایک انتباہ
اس سماجی اسکینڈل نے ڈومبیولی اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایک سخت یاد دہانی ہے کہ کسی شخص کا پیشہ، چاہے وہ استاد جیسا ہی قابل احترام کیوں نہ ہو، اس کے کردار کی ضمانت نہیں دیتا۔ یہ کہانی ہر کسی، خاص طور پر خواتین کے لیے ایک طاقتور سبق ہے کہ وہ تعلقات میں محتاط اور چوکس رہیں۔ یہ آپ کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا بدسلوکی یا فریب کا شکار ہے، تو براہ کرم پولیس یا دیگر امدادی تنظیموں سے مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ آپ کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ اس مضمون کو شیئر کریں تاکہ شعور بیدار ہو اور دوسروں کو ایسے فریب کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔