والدین کے لیے ایک لازمی پیغام: قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی! یہ 7 سالہ بچہ آپ کے لیے ایک انتباہ ہے
کیا ہم اپنے بچوں کو ایک ایسی دنیا دے رہے ہیں جہاں وہ تنہائی اور بے حسی کا شکار ہیں؟ ایک ایسی دنیا جہاں ڈیجیٹل اسکرینیں والدین کی محبت اور توجہ کی جگہ لے رہی ہیں؟ یہ ایک ایسی تشویش ناک حقیقت ہے جسے ہم میں سے اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں، اور اس کے نتائج ہماری سوچ سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی کہانی وائرل ہوئی ہے، جس نے ہر والدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ ایک 7 سالہ بچے نے صرف اپنے والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے المیے کی عکاسی کرتا ہے اور ہر اس والدین کے لیے ایک سخت انتباہ ہے جو اپنے بچوں کی بجائے اپنے موبائل فونز میں مگن رہتے ہیں۔
وہ قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری تھی!
یہ جملہ محض ایک فقرہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خوفناک پیشگوئی ہے۔ یہ اس خاموش قیامت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو ہم اپنے ہاتھوں سے پیدا کر رہے ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کی ذہنی اور جذباتی ضروریات کو نظرانداز کرتے ہیں، تو ہم ان کے بچپن کو خود ہی تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ پوشیدہ اور خاموش قیامت ہے جو نسل در نسل پھیل رہی ہے، اور اس کا بوجھ ہمارے بچوں کے کندھوں پر ہے۔ اس 7 سالہ معصوم بچے نے جو کچھ کیا، وہ صرف ایک لمحے کا جذباتی ردعمل نہیں تھا، بلکہ یہ ہمارے طرزِ زندگی کا براہ راست نتیجہ تھا۔ وہ بچہ اپنے والدین کی توجہ کا پیاسا تھا، ان کی محبت اور وقت کا بھوکا تھا۔ اسے والدین کی توجہ چاہیے تھی، جو اسے موبائل اسکرینوں کی چکاچوند میں کہیں کھوئی ہوئی محسوس ہوئی۔
ہمارے معاشرے کا المیہ: جب اسکرینیں رشتوں پر حاوی ہو جائیں
آج کل یہ ایک عام منظر ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ موجود تو ہوتے ہیں، لیکن وہ حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہوتے۔ ان کی نظریں موبائل فون پر لگی ہوتی ہیں، اور ان کا ذہن سوشل میڈیا یا دوسرے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر۔ اس طرز عمل کا بچوں پر گہرا نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ بچے محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کے لیے اتنے اہم نہیں ہیں جتنا ان کا موبائل فون ہے۔ یہ احساس ان کے اندر تنہائی، بے حسی اور بے وقعتی پیدا کرتا ہے، جو بعد میں ذہنی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ اس 7 سالہ بچے کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بچوں کو صرف جسمانی طور پر خوراک اور لباس فراہم کرنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ انہیں جذباتی اور ذہنی طور پر بھی صحت مند رکھنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
والدین کے لیے ایک اہم سوال اور اس کا حل
آپ کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کا بچہ صرف کھلونا یا ایک ڈیوائس نہیں ہے جسے آپ اسکرین دے کر بہلا سکیں۔ انہیں آپ کی قربت، آپ کی توجہ، آپ کے وقت اور سب سے بڑھ کر آپ کی بے لوث محبت کی ضرورت ہے۔ جب آپ اپنے بچوں کو نظر انداز کرتے ہیں، تو ان کی چھوٹی سی دنیا میں ایک بہت بڑا جذباتی خلا پیدا ہو جاتا ہے، جسے وہ غلط طریقوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے بچوں کی پرورش کے رویوں پر نظرثانی کریں۔بچوں کو معیاری وقت دیں: اپنے مصروف شیڈول میں سے روزانہ کچھ وقت اپنے بچوں کے لیے مخصوص کریں۔ اس وقت میں، صرف اور صرف ان کے ساتھ کھیلیں۔ ان سے دن بھر کی سرگرمیاں پوچھیں۔ ان کے خوابوں اور خوف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
موبائل کی لت کو ترک کریں: جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہوں، تو موبائل فون کو ایک طرف رکھ دیں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ ک زندگی کی سب سے اہم ترجیح ہیں۔ انہیں یہ دکھائیں کہ آپ کے لیے ان کی موجودگی کسی بھی ڈیجیٹل تفریح سے زیادہ اہم ہے۔
- محبت کا اظہار لفظوں اور عمل سے کریں: انہیں بار بار بتائیں کہ آپ انہیں کتنا پیار کرتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں سراہیں۔ انہیں گلے لگائیں اور انہیں محفوظ محسوس کرائیں۔
- بچوں کی بات سنیں: ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی اہمیت دیں۔ اگر وہ آپ سے کوئی بات شیئر کرنا چاہیں تو انہیں روکیں مت اور ان کی پوری بات غور سے سنیں۔ یہ انہیں اعتماد دے گا کہ ان کے احساسات آپ کے لیے اہم ہیں۔
- صحتمند سرگرمیوں کو فروغ دیں: بچوں کو اسکرین ٹائم کم کرنے اور جسمانی سرگرمیوں جیسے کھیل، ڈرائنگ یا پڑھنے کی طرف راغب کریں۔ یہ نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے بلکہ ان کے آپ کے ساتھ رشتے کو بھی مضبوط کرے گا۔ یہ دل دہلا دینے والی کہانی محض ایک خبر نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو کھانا اور کپڑے فراہم کرنا نہیں، بلکہ ان کی ذہنی، جذباتی اور روحانی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کیا ہم اس خاموش قیامت کو روکنے اور اپنے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل دینے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم آج سے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں بچوں کے حقوق اور بچوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔