لی پور چٹھہ: 6 سالہ بچی ڈمپر تلے آکر جاں بحق، لواحقین کا ‘اللہ کی رضا’ کے لیے معاف کر دینے کا انوکھا فیصلہ
لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔ علی پور چٹھہ میں ایک تیز رفتار ڈمپر کی زد میں آ کر ایک معصوم 6 سالہ بچی جان کی بازی ہار گئی۔ یہ واقعہ جہاں ایک طرف سڑک پر بڑھتی ہوئی بے احتیاطی کی عکاسی کرتا ہے، وہیں دوسری طرف لواحقین کا ‘اللہ کی رضا’ کے لیے مجرم کو معاف کر دینا ایک غیر معمولی اور حیران کن مثال قائم کرتا ہے۔ اس خبر نے نہ صرف عوام کو دکھ پہنچایا ہے بلکہ انہیں ایک گہرے فکری سماجی مسئلے پر غور کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
دردناک واقعہ کی تفصیلات: ایک لمحے کی غفلت اور ایک معصوم کی ہلاکت
یہ افسوسناک واقعہ علی پور چٹھہ کے قریبی علاقے کیلاسکے ڈیرہ جموں میں پیش آیا۔ ایک شخص علی حسن اپنے خاندان کے ساتھ ایک رکشہ میں سوار ہو کر گوجرانوالہ کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں قینچی ڈیرہ جموں کے قریب اس نے سڑک کے کنارے ایک پھل فروش کو دیکھا اور رکشہ روک کر سیب لینے کے لیے اتر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، جیسے ہی علی حسن پھل فروش کے پاس پہنچا، اس کی 6 سالہ بیٹی فجر، جو اپنی والدہ کے ساتھ رکشہ میں بیٹھی تھی، اپنے والد کے پیچھے دوڑی۔ یہ ایک لمحے کا واقعہ تھا، لیکن اس کی قیمت بہت بھاری ثابت ہوئی۔ پیچھے سے آنے والے ایک تیز رفتار ڈمپر نے اس معصوم بچی کو کچل دیا۔ یہ دلخراش منظر دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کی چیخیں نکل گئیں۔ یہ ڈمپر حادثہ ہمارے ملک میں ٹریفک حادثات میں بڑھتی ہوئی بے احتیاطی کا واضح ثبوت ہے۔
پولیس کی فوری کارروائی اور لواحقین کا دل جیتنے والا فیصلہ
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹرولنگ پولیس کیلاسکے چوکی کے انچارج محمد یاسین اور پنجاب پولیس کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لیا اور قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے لواحقین سے رابطہ کیا۔ لیکن یہاں جو کچھ ہوا، اس نے سب کو حیران کر دیا۔ جب پولیس نے لواحقین سے مقدمہ درج کرانے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے دکھ اور غم کے باوجود اس سے انکار کر دیا۔ والد علی حسن اور دیگر لواحقین نے یہ کہتے ہوئے مجرم کو معاف کر دیا کہ “ہم نے اس ڈمپر ڈرائیور کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیا ہے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے غم کی وجہ سے کسی دوسرے خاندان کی زندگی بھی برباد ہو۔” یہ جذباتی فیصلہ نہ صرف انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال ہے بلکہ یہ ہمارے عدالتی نظام کے بارے میں ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے۔
معاشرتی رویے اور ذمہ داریوں پر ایک سوالیہ نشان
سڑکوں پر بڑھتی ہوئی بے احتیاطی: تیز رفتار ڈمپر اور دیگر بھاری گاڑیاں اکثر شہری علاقوں اور شاہراہوں پر خطرناک طریقے سے چلائی جاتی ہیں۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو سخت ضابطہ اخلاقی اور قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔
حفاظتی اقدامات کی ضرورت: سڑک کے کنارے پھل یا کھانے پینے کی اشیاء خریدتے وقت والدین اور بچوں کو اضافی احتیاط برتنی چاہیے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک لمحے کی غفلت بھی کتنا بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- لواحقین کا حوصلہ اور معافی: جس طرح لواحقین نے معافی کا فیصلہ کیا، وہ ہمارے معاشرتی رویوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے۔ کیا ایسے واقعات میں معافی مناسب ہے؟ یا سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے؟ لواحقین کا فیصلہ یقیناً دل کو چھو لینے والا ہے، لیکن یہ سوال باقی ہے کہ کیا اس سے معاشرے میں انصاف کے نظام پر کوئی منفی اثر پڑے گا؟ یہ عمل انسانیت کی ایک مثال ہے، لیکن کیا یہ سماجی ذمہ داریوں سے بالاتر ہے؟
- یہ واقعہ ایک سانحہ ہے، لیکن اس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر حفاظت کی اہمیت، والدین کی ذمہ داری، اور انسانیت کے اصولوں پر زور دیتا ہے۔ ہمیں اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔