Advertisement

پنڈی بھٹیاں کے گاؤں کوٹ نکہ میں زہریلی چیز کھانے سے تین بچوں کی موت، دو کی حالت نازک


پنڈی بھٹیاں کے گاؤں کوٹ نکہ میں زہریلی چیز کھانے سے تین بچوں کی موت، دو کی حالت نازک

تعارف

پنڈی بھٹیاں کے نواحی گاؤں کوٹ نکہ میں حال ہی میں پیش آنے والا ایک دلخراش واقعہ پورے علاقے کو غم میں ڈوبا گیا۔ چند لمحوں کی بھول نے تین معصوم بچوں کی زندگیاں چھین لیں اور دو ننھے پھول اب بھی اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے بلکہ ہمارے نظام کی خامیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

Advertisement

واقعے کی تفصیل

مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں کے کچھ بچے کھیل کود کے بعد بھوک کے باعث گھر لوٹے اور وہاں انہوں نے ایک ایسی چیز کھا لی جس میں زہریلا مادہ شامل تھا۔ کھانے کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ گھبراہٹ میں والدین اور قریبی لوگ انہیں فوراً اسپتال لے گئے مگر افسوس کہ تین بچے بروقت علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے۔ باقی دو بچوں کو تشویشناک حالت میں لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ اب بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔

Advertisement

متاثرہ خاندان کا دکھ

یہ صدمہ اتنا بڑا ہے کہ لفظ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ والدین جو ابھی چند گھنٹے پہلے اپنے بچوں کو مسکراتا دیکھ رہے تھے، اچانک انہیں جنازے کے سفر پر رخصت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ گاؤں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پورا دیہات سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین ہے۔ وہ ہنسی اور خوشیاں جو ان گھروں میں گونجتی تھیں، اب خاموشی اور کرب میں بدل چکی ہیں۔

عوامی ردعمل

مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں لیکن متعلقہ ادارے اس پر توجہ نہیں دیتے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی فوری اقدامات کرے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور دیہات میں فروخت ہونے والی اشیاء پر کڑی نگرانی رکھی جائے۔

مضر صحت کھانے کا بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان کے کئی شہروں اور دیہات میں کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء عام دستیاب ہیں۔ خاص طور پر بچے لاعلمی میں سستی اور ناقص چیزیں خرید لیتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ کوٹ نکہ کا یہ حادثہ اسی بڑے مسئلے کی ایک خوفناک یاد دہانی ہے کہ اگر فوری طور پر روک تھام نہ کی گئی تو مزید قیمتی زندگیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔

حکومت اور اداروں کی ذمہ داری

ایسے حالات میں حکومت اور فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ فوڈ انسپیکشن کے نظام کو دیہی علاقوں تک پھیلانا، ناقص اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا اور اسپتالوں میں ایمرجنسی سہولیات کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی نہ صرف زندگیاں بچا سکتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کر سکتی ہے۔

عوامی احتیاط اور آگاہی

یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ والدین اور معاشرے کا بھی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ اجنبی یا غیر معیاری چیزیں کھانے سے پرہیز کریں۔ اسکولوں اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ بچوں اور بڑوں کو خطرناک اشیاء کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔

نتیجہ

گاؤں کوٹ نکہ کا یہ سانحہ ایک کڑوا سبق ہے۔ تین معصوم زندگیاں ہم سے رخصت ہو گئیں اور دو بچے زندگی کی کشمکش میں ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لاپرواہی کی قیمت ہمیشہ قیمتی جانوں سے چکانی پڑتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے آئندہ کوئی خاندان اس طرح کے کرب سے نہ گزرے۔ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی تو کل کے معصوم بچے ایک محفوظ ماحول میں پروان چڑھ سکیں گے۔

Leave a Comment