Advertisement

منڈی بہاءالدین: دھنی کلاں میں بجلی کی تاروں سے حادثہ، تین قیمتی بھینسے ہلاک

منڈی بہاءالدین: دھنی کلاں میں بجلی کی تاروں سے حادثہ، تین قیمتی بھینسے ہلاک

تعارف

منڈی بہاءالدین کی تحصیل پھالیہ کے نواحی گاؤں دھنی کلاں میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے مقامی آبادی کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سیلاب متاثرین اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ دھنی کلاں سے گزر کر قریبی گاؤں دھالہ شریف جا رہے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کے سامنے زمین پر گری بجلی کی تاروں نے نہ صرف مویشیوں بلکہ متاثرہ خاندان کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

Advertisement

حادثے کی تفصیل

عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 35 سے 40 مویشیوں کے ہمراہ متاثرین دھنی کلاں سے گزر رہے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کے قریب زمین پر گری ننگی بجلی کی تاروں کے ساتھ ٹکرانے سے تین قیمتی بھینسے موقع پر ہی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگئے۔ باقی مویشیوں کو بڑی مشکل سے پیچھے بھگا کر بچایا گیا، لیکن واقعہ نہایت دلخراش اور تکلیف دہ تھا۔

Advertisement

متاثرین کی مشکلات

یہ حادثہ ان خاندانوں پر اس وقت نازل ہوا جب وہ پہلے ہی سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار تھے۔ مویشی ان کے روزگار اور گزر بسر کا بنیادی ذریعہ تھے۔ تین بھینسوں کا ضائع ہونا ان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متاثرین مالی طور پر پہلے ہی کمزور تھے اور اب یہ سانحہ ان پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔

مقامی عوام کا ردعمل

حادثے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی یہ تاریں کئی دنوں سے زمین پر پڑی تھیں اور متعدد بار متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی تھی، لیکن کسی نے سنجیدہ قدم نہ اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر بروقت مرمت کر دی جاتی تو یہ المناک واقعہ پیش نہ آتا۔

حکام سے مطالبات

اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، غفلت کے مرتکب ذمہ داران کو سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری مالی معاوضہ فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی لائنوں کی مرمت اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

بجلی کی خستہ حال لائنیں – ایک بڑا مسئلہ

یہ حادثہ صرف دھنی کلاں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی خستہ حال لائنوں اور کھلی تاروں کی وجہ سے آئے روز اموات اور نقصان سامنے آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ بجلی کے نظام کو اپ گریڈ کریں، حفاظتی معیار سخت کریں اور فوری مرمت کے انتظامات کریں تاکہ انسانی جانیں اور قیمتی وسائل محفوظ رہ سکیں۔

نتیجہ اور پیغام

دھنی کلاں کا واقعہ ایک کڑوا سبق ہے کہ لاپرواہی اور بدانتظامی کس طرح قیمتی جانوں اور وسائل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکام فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش حادثات دوبارہ نہ ہوں۔

Leave a Comment