بنگلورو: پی جی میں گھس کر لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا
بڑے شہروں میں خواتین کی رہائش کے لیے بنائے گئے پینگ گیسٹ (PG) ہاسٹلز کو عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن بنگلورو میں پیش آنے والے ایک خوفناک واقعے نے خواتین کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک 21 سالہ خاتون کو ایک نامعلوم شخص نے اس کے کمرے میں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں، بلکہ خواتین کی حفاظت کے لیے موجودہ چیلنجوں کی ایک چونکا دینے والی یاد دہانی ہے۔
واقعہ کی تفصیل: چاقو سے دھمکایا اور لوٹ لیا
یہ افسوسناک واقعہ بنگلورو کے بی ٹی ایم لے آؤٹ میں واقع لکشمن درگا لیڈیز پی جی میں پیش آیا۔ 29 اگست کی صبح تقریباً 3 بجے، جب متاثرہ خاتون اپنے کمرے میں سو رہی تھی، ایک نامعلوم شخص دروازہ کھلا دیکھ کر اندر داخل ہو گیا۔ اس نے خاتون کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا اور جب اس نے مزاحمت کی تو اسے چاقو سے ڈرا کر دھمکایا اور اس پر حملہ بھی کیا۔ اس کے بعد، اس نے کمرے سے 2,500 روپے چرا لیے اور فرار ہو گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ بہادر خاتون نے ملزم کو راہداری میں پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس پر دوبارہ حملہ کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کے وقت، اس کی ایک روم میٹ سو رہی تھی جبکہ دوسری ڈیوٹی پر تھی۔ یہ واقعہ سیکورٹی کی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے، جس نے مجرم کو رات کے وقت حملہ کرنے کا موقع دیا۔
پولیس کا ایکشن اور پی جی مالک کا عجیب دعویٰ
متاثرہ کی شکایت کے بعد، سدّگُنتےپالیا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ پی جی صرف دو ماہ پہلے ہی کھلا تھا، اور واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی گارڈ سو رہا تھا۔ تاہم، پی جی کے مالک نے ایک عجیب بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعہ کمرے کے اندر نہیں بلکہ داخلی دروازے پر پیش آیا۔ جب سی سی ٹی وی میں دکھائی گئی راہداری میں جھگڑے کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، “اگر کوئی باہر سے زبردستی اندر آ جائے تو ایسے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔” یہ بیان خواتین کی حفاظت کے حوالے سے پی جی کی ذمہ داری پر مزید سوالات کھڑے کرتا ہے۔
نتیجہ اور ہمارا پیغام
یہ واقعہ صرف ایک مجرمانہ فعل نہیں؛ بلکہ اس نے خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہ کہانی ان تمام خواتین کے لیے ایک انتباہ ہے جو پی جیز یا ہاسٹلز میں رہتی ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ذاتی حفاظت کے ساتھ ساتھ، آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کے حفاظتی نظام کی مضبوطی پر بھی نظر رکھیں۔ آپ کی رائے میں، خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پی جیز اور ہاسٹلز کو کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں؟ اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں۔