Advertisement

دیر رات ٹوائلٹ گئی خاتون، جیسے ہی باہر نکلی، چیخ نکل گئی، پھر۔۔۔

دیر رات ٹوائلٹ گئی خاتون، جیسے ہی باہر نکلی، چیخ نکل گئی، پھر۔۔۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گھر کی چار دیواری میں بھی آپ کتنے غیر محفوظ ہیں؟ اترپردیش کے ضلع کاس گنج میں پیش آنے والے ایک خوفناک واقعے نے اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ یہ کہانی ایک خاتون کی ہے جو رات گئے ٹوائلٹ گئی اور جیسے ہی باہر نکلی، اس کا سامنا ڈاکوؤں سے ہوا۔ گھر میں ڈکیتی اور چاقو کی نوک پر لوٹ مار کے اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

Advertisement

مجرموں کے حوصلے بلند، تین لاکھ روپے نقدی اور زیورات لوٹے گئے

یہ واقعہ کاس گنج کے گنج دندواڑہ تھانے کے علاقے میں پیش آیا۔ رات کے وقت، جب سب سو رہے تھے، کچھ نامعلوم بدمعاش گھر میں گھس آئے۔ جب خاتون بیت الخلاء سے باہر نکلی تو ان کو دیکھ کر چیخ پڑی۔ مجرموں نے اسے فوراً پکڑ لیا اور چاقو دکھا کر لوٹ لیا۔ ڈکیتی کے دوران، انہوں نے خاتون اور اس کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی، جس سے اہل خانہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

Advertisement

مجرم گھر میں رکھی تقریباً تین لاکھ روپے کی نقدی اور سونے چاندی کے زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر مقامی لوگوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور پولیس انتظامیہ سے سیکورٹی کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کا ایکشن اور ملزمان کی تلاش

واقعہ کے فوراً بعد، ایک ہولناک تجربے سے گزرنے کے باوجود، متاثرہ خاتون نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور قریبی گنج دندواڑہ تھانے پہنچی۔ اس کے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں نے شکایت نامہ درج کرایا، جس میں اس نے رات کے اندھیرے میں گھر میں گھسنے والے نامعلوم ملزمان کی سنگ دلی کی پوری داستان بیان کی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ کس طرح چاقو کی نوک پر اسے اور اس کے معصوم بچوں کو دھمکیاں دی گئیں اور کس طرح ان کے کانوں میں بدمعاشوں کی خوفناک آوازیں اب بھی گونج رہی ہیں۔ اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ انصاف کی بھوک بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شکایت ملتے ہی اتر پردیش پولیس نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کیا اور فوری طور پر حرکت میں آ گئی۔ انسپکٹر نے فوراً ایک میٹنگ بلائی اور مختلف ٹیمیں تشکیل دیں۔ کوتوالی پولیس کے ساتھ ساتھ خصوصی تحقیقاتی دستے بھی ملزمان کی تلاش میں سرگرم ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں نے رات کے وقت ہی جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں اہل خانہ اب بھی شدید خوف و ہراس کا شکار تھے۔ انہوں نے گھر کے اندر اور باہر ہر ممکن شواہد جمع کیے۔ فنگر پرنٹس لینے اور علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

کاس گنج ضلع میں حالیہ مہینوں میں ڈکیتی،

چوری اور لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجرم کس قدر بے خوف ہو چکے ہیں۔ آپ کی رائے میں پولیس کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے کیا ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں؟ کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

Leave a Comment