Advertisement

مانسہرہ میں پتنگ کی ڈور کا ایک اور شکار: ایک معصوم بچے کی زندگی بال بال بچ گئی

مانسہرہ شہر میں آج ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے ایک بار پھر پتنگ باز

Advertisement

مانسہرہ میں پتنگ کی ڈور کا ایک اور شکار: ایک معصوم بچے کی زندگی بال بال بچ گئی

ی کے خطرناک کھیل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک معصوم بچہ پتنگ کی جان لیوا ڈور کی زد میں آ کر گلا کٹنے سے بال بال بچ گیا، لیکن اس واقعے نے پورے شہر کو خوف اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسا خطرناک کھیل ہے جو کسی بھی وقت کسی کے پورے خاندان کو اجاڑ سکتا ہے۔

Advertisement

ایک عام شام اور ایک غیر معمولی خطرہ

یہ واقعہ شام کے وقت پیش آیا جب بچہ معمول کے مطابق اپنے گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ یہ ایک عام منظر ہے جو مانسہرہ اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں روزانہ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں بچے گلیوں اور چوکوں میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔ اچانک ایک اونچی اڑتی ہوئی پتنگ کی ڈور، جو کیمیکل اور شیشے کے باریک ذرات سے بنی ہوئی تھی، اس معصوم بچے کے گلے سے ٹکرائی۔ ڈور اتنی تیز اور مضبوط تھی کہ اس نے بچے کی گردن پر گہرا زخم کر دیا۔ خوش قسمتی سے، والدین نے وقت پر دیکھ لیا اور فوری طور پر بچے کو گلا کٹنے سے بچا لیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا اور اس کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پتنگ بازی کا شوق کتنا مہلک ہو سکتا ہے۔

جان لیوا “کیمیکل ڈور” کی حقیقت

پتنگ بازی کا کھیل اب محض تفریح نہیں رہا، بلکہ ایک خطرناک صنعت بن چکا ہے۔ عام سوتی ڈور کے بجائے اب ایسی ڈور استعمال کی جاتی ہے جو پلاسٹک، نائلون اور شیشے کے سفوف کے ساتھ خاص قسم کے کیمیکل سے تیار کی جاتی ہے۔ اس ڈور کا مقصد دوسری پتنگوں کی ڈور کو کاٹنا ہوتا ہے، لیکن یہ اتنی خطرناک ہوتی ہے کہ کسی بھی انسان، خاص طور پر بچوں اور موٹر سائیکل سواروں کی گردن کاٹ سکتی ہے۔ ماضی میں ایسے کئی افسوسناک واقعات ہو چکے ہیں جہاں پتنگ کی ڈور نے کئی قیمتی جانیں لے لیں۔ لاہور، فیصل آباد اور کراچی جیسے شہروں میں ایسے واقعات عام ہیں، جہاں یہ جان لیوا ڈور کئی خاندانوں کی تباہی کا سبب بنی۔

حکومتی پابندی اور اس کی ناکامی

حکومت نے پتنگ بازی اور اس کی تیاری پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، اس کے باوجود یہ غیر قانونی کاروبار عروج پر ہے۔ خفیہ فیکٹریوں میں یہ جان لیوا ڈور بنائی جاتی ہے اور چوری چھپے بازاروں میں فروخت کی جاتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری یا غفلت کی وجہ سے یہ خطرناک کھیل جاری ہے، اور اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ضروری ہے کہ صرف پابندی کے اعلانات نہ کیے جائیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے۔ پتنگ بازی کی فروخت اور تیاری میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ کوئی دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔

والدین اور معاشرتی ذمہ داری

اس خطرناک کھیل کو روکنے کے لیے صرف حکومت کی کوششیں کافی نہیں ہیں۔ اس میں والدین اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی کے اس خطرناک کھیل سے روکیں اور انہیں اس کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ تفریح وہ ہوتی ہے جو کسی دوسرے کی زندگی کے لیے خطرہ نہ بنے۔ معاشرے کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی کاموں کی حوصلہ شکنی کرے اور اپنے آس پاس ایسے کسی بھی عمل کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دے۔

نتیجہ

مانسہرہ کا یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ایک وارننگ ہے کہ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس خطرناک کھیل کو روکا نہیں تو نہ جانے کتنے اور معصوم بچے اور کتنے خاندان اس کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ خدارا! ایک دوسرے پر رحم کریں اور اس جان لیوا کھیل کا خاتمہ کریں۔ ایک چھوٹی سی تفریح کسی کا پورا خاندان اجاڑ سکتی ہے، اس لیے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کی قدر کریں۔

Leave a Comment