Advertisement

ماموں کے دوست کی بھیانک واردات: گھر میں داخل ہو کر کولڈ ڈرنک پلائی

ماموں کے دوست کی بھیانک واردات: گھر میں داخل ہو کر کولڈ ڈرنک پلائی اور پھر چیخ و پکار مچ گئی

  • ایٹہ، اترپردیش — اترپردیش کے ضلع ایٹہ سے ایک سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک ماموں کے دوست نے ایسا جرم کیا ہے جو انسانیت کو شرمسار کرتا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک متاثرہ لڑکی نے انصاف کے لیے پولیس سے رابطہ کیا اور اپنے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے کو بیان کیا، جسے سن کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم نے اسے نشہ آور چیز پلا کر اس کی عصمت دری کی اور پھر ایک قابل اعتراض ویڈیو بنا کر اسے بلیک میل کرتا رہا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ سازش کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کیسے کچھ لوگ قریبی تعلقات کا غلط استعمال کرکے بے قصور افراد کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔  واقعے کی تفصیلات: اعتماد کا خونمتاثرہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی نانی کے گھر رہ کر پڑھائی کر رہی تھی۔ اس دوران اس کے ماموں کا دوست، مکیش، جو کہ پڑوسی گاؤں میں رہتا تھا، اکثر ان کے گھر آیا کرتا تھا۔ تقریباً دو سال قبل، ایک دن جب اس کے گھر والے کھیت گئے ہوئے تھے اور وہ گھر پر اکیلی تھی، مکیش خاموشی سے اس کے گھر میں داخل ہوا۔ اس نے لڑکی کو ایک کولڈ ڈرنک پیش کی۔لڑکی کے مطابق، اس کولڈ ڈرنک میں نشہ آور چیز ملی ہوئی تھی۔ اسے پینے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی، اور اسی بے ہوشی کی حالت میں ملزم نے اس کی عصمت دری کی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر زور زور سے چیخ و پکار کی۔
  • خوف اور شرمندگی: خاموشی کا عذاب

  •  لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ ملزم مکیش نے اس کی عصمت دری کے دوران اس کی قابل اعتراض ویڈیو بنا لی تھی۔ بعد میں، وہ اسی ویڈیو کو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر اسے مسلسل بلیک میل کرتا رہا اور کئی بار اس کی عصمت دری کی۔ خوف اور شرمندگی کی وجہ سے، متاثرہ طویل عرصے تک خاموش رہی۔ بالآخر، اس نے ہمت کی اور اپنے خاندان کو پوری بات بتائی۔ خاندان کی مدد سے، اس نے سہاور تھانے میں ایک تحریری شکایت درج کروائی۔
  • پولیس کی کارروائی

  • سہاور کوتوالی پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سہاور کی سی او، شاہیدہ نسرین، نے بتایا کہ ملزم کے خلاف عصمت دری اور بلیک میلنگ سے متعلق دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی چھان بین جاری ہے، اور ملزم کو جلد ہی گرفتار کرکے سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ملزم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ پائے گا۔ متاثرہ کو ہر ممکن انصاف فراہم کیا جائے گا، اور کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

نتیجہ: بیداری اور سماجی ذمہ داری کا وقت

یہ خوفناک واقعہ ہمارے معاشرے کے ایک تاریک پہلو کی عکاسی کرتا ہے جہاں اعتماد کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ خواتین کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور ہمیں ایسے واقعات کے خلاف بولنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں بیداری پیدا کریں اور ایسے خوفناک رویوں کا خاتمہ کریں۔

Advertisement

Leave a Comment