جنم دن کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں: ایک سرپرائز جو بھیانک خواب بن گیا
- کولکاتہ، بھارت — جنوبی کولکاتہ کے ریجنٹ پارک علاقے سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک 20 سالہ لڑکی، جو اپنے جاننے والوں کے ساتھ اپنی سالگرہ منانے گئی تھی، اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا جو انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے۔ لڑکی نے اپنے دوست چندن ملک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسے اپنے دوست دیپ کے گھر بلایا، جہاں دونوں نے اس کی عصمت ریزی کی۔این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ متاثرہ ہری دیو پور کی رہائشی ہے۔ جمعہ کے روز، اس کی سالگرہ تھی، اسی موقع پر اس کا جاننے والا چندن ملک اسے اپنے دوست دیپ کے فلیٹ پر لے گیا۔ ان تینوں نے وہاں رات کا کھانا کھایا۔ اپنی سالگرہ منانے اور کھانا کھانے کے بعد، لڑکی گھر واپس جانا چاہتی تھی، لیکن ملزمان نے اسے روک کر دروازہ بند کر دیا۔ اس کے بعد دونوں نے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی پولیس کی رپورٹ کے مطابق، یہ دلخراش واقعہ جمعہ کو پیش آیا۔ چندن ملک نے اپنی 20 سالہ دوست کو جنوبی کولکاتہ میں اپنے دوست دیپ کے فلیٹ پر رات کے کھانے کے لیے بلایا تھا۔ لڑکی نے سوچا تھا کہ یہ صرف ایک سادہ سالگرہ کی تقریب ہوگی، لیکن اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ ایک ایسے جال میں پھنسنے جا رہی ہے جو اس کی سالگرہ کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دے گا۔ یہ خوفناک واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں ہے، بلکہ کولکاتہ کی امن و امان کی صورتحال پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مجرم کس طرح سماجی تعلقات کا استحصال کرتے ہوئے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
-
متاثرہ کی ہمت اور پولیس کی کارروائی
ہفتے کی صبح تقریباً 10:30 بجے، متاثرہ لڑکی نے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا اور کسی طرح ملزمان کے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ فوراً اپنے گھر پہنچی اور اپنے گھر والوں کو سب کچھ بتایا۔ اس کے بعد، ہفتے کو ہی پولیس میں مقدمہ درج کرایا گیا۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ملزمان کے خلاف اجتماعی عصمت دری اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ فی الحال، دونوں ملزمان مفرور ہیں، اور ان کی پولیس تلاش جاری ہے۔
جان پہچان کیسے ہوئی
اپنی شکایت میں، متاثرہ نے بتایا کہ وہ چند ماہ قبل چندن ملک سے ملی تھی۔ اس نے اپنا تعارف جنوبی کولکاتہ میں ایک بڑی درگا پوجا کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کرایا تھا۔ اسی بہانے اس نے لڑکی کو دیپ سے ملوایا، اور ان کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔ ملزم نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اسے پوجا کمیٹی میں شامل کرائے گا، جو بعد میں ایک فریب ثابت ہوا۔
کولکاتہ میں بڑھتے جرائم: کیا ‘سب سے محفوظ شہر’ اب بھی محفوظ ہے؟
- یہ کولکاتہ ریپ کیس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب این سی آر بی (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق کولکاتہ کو ملک کا سب سے محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس دعوے پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
- لا کالج کیمپس ریپ کیس: 25 جون 2025 کو، جنوبی کولکاتہ کے لا کالج کیمپس میں ایک قانون کی طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ اس کیس میں ملزم منوج مشرا تھا، جو ایک سابق طالب علم اور ٹی ایم سی پی کا سابق صدر تھا، اور اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
- آر جی کر کیس: گزشتہ سال، آر جی کر میں ایک ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے واقعے نے ملک بھر میں غم و غصہ پیدا کر دیا تھا۔ اس کیس میں ملزم سنجے رائے کو اس سال عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
- یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک مجرموں کو فوراً سزا نہیں دی جاتی اور سماجی رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، تب تک کوئی بھی شہر واقعی محفوظ نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ: سماجی ذمہ داری اور بیداری کا وقت
یہ خوفناک واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک المناک حقیقت ہے۔ ہمیں نہ صرف پولیس کی کارروائی کی حمایت کرنی چاہیے بلکہ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر بیداری بھی پھیلانی چاہیے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے آواز اٹھائیں اور اس انسانیت کو شرمسار کرنے والا رویہ کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔