مریضوں کو بے ہوش کرنے کے بعد قائم کرتی تھی جنسی تعلقات ۔ خاتون ڈاکٹر :
یہاں تک کہ پاکستان میں بھی، ایک مشہور طبی شعبہ کے نمائندے پر مریضوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ایپاکستان میں بھی ایسے بدنام زمانہ واقعات ہوتے رہے ہیں، جہاں ڈاکٹروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ مریضوں کا استحصال عام ہو چکا ہے۔ ایک کیس میں، ایک خاتون مریض نے اپنے ڈاکٹر پر الزام لگایا کہ اس نے اسے بے ہوشی کا انجکشن دیا اور پھر اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔ یہ معاملہ عدالت میں چلا اور بالآخر ڈاکٹر کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد، جج صاحب نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ایسے واقعات سے, ڈاکٹر اور مریض کا رشتہ : متاثر ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف پیشہ ورانہ بدانتظامی ہے بلکہ انسانیت پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ڈاکٹروں پر لو گ اعتماد کرتے ہیں ،انہیں اپنی صحت کا محافظ سمجھتے ہیں لیکن تصور کریں کہ جب ڈاکٹر خود ایک محافظ سے شکاری بن جاتا تو کیا ہوتا ہے؟ حال ہی میں ایک ہندوستانی نژاد کینیڈین ڈاکٹر کے بارے میں چرچا ہورہی ہے جس نے اپنے مریضوں کو بے ہوش کرنے کے بعد ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ اس خاتون ڈاکٹر کی حقیقت سامنے آئی تو جج کے بھی ہوش اڑ گئے۔کینیڈا میں ایک مشہور خاتون فیملی فزیشن ڈاکٹر سمن کھلبے پر سنگین جنسی زیادتی اور غیر اخلاقی سلوک کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حال ہی میں، اونٹاریو فزیشنز اینڈ سرجنز ڈسپلن ٹربیونل (OPSDT) نے اسے قصوروار ٹھہرایا ہے اور ان کا میڈیکل لائسنس م عطل کر دیا ہے۔ عدالت نے پایا کہ ڈاکٹر کھلبے نے ایک مریض کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور دو دیگر کے ساتھ “ذلت آمیز، شرمناک اور غیر پیشہ ورانہ” برتاؤ کیا۔ ٹربیونل کی رپورٹ ” ٹربیونل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کھلبے اپنی پیشہ ورانہ حدود کو برقرار رکھنے میں ناکام رہیں ۔ وہ کئی مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر اور مریض کے رشتے سے آگے بڑھ کر ذاتی اور سماجی رشتوں میں شامل ہو گئیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس نے ایک مریض (کورٹ میں Patient A کے طور پر درج) کو Kiss کیا اور قابل اعتراض حرکتیں کیں۔ ساتھ ہی ‘شہوانی، شہوت انگیز پروسٹیٹ مساج’ جیسی جنسی سرگرمیاں بھی کیں۔ان کا دو دیگر مریضوں کے ساتھ نامناسب رابطہ اور بات چیت بھی تھی۔ ڈاکٹر کے مریضوں کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات تھےPatient A نے عدالت میں گواہی دی کہ ڈاکٹر اسے منشیات کے ذریعے متاثر کرتی تھیں ۔ اسے Procaine نامی بے ہوشی کا انجکشن دیا گیا، جس سے تکلیف اور ہلکا جوش پیدا ہوا۔ اس دوران ڈاکٹر نے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کئے۔ Patient A کا کہنا تھا کہ ان انجیکشنز کے زیر اثر وہ نارمل ذہنی حالت میں نہیں تھے اور انہیں ’’گرومنگ اور بدسلوکی‘‘ کا نشانہ بنایا گیا۔ Patient B اور Patient C کے ساتھ ڈاکٹر کے نامناسب تعلقات کے ثبوت بھی سامنے آئے۔ ڈاکٹر نے بار بار مریض بی کو پروکین انجیکشن لگایا، یہاں تک کہ پرائیویٹ پارٹیوں اور اس کے گھر پر بھی۔ دونوں نے بڑے پیمانے پر نجی پیغامات کا تبادلہ کیا، جس میں ڈاکٹر نے اسے “Angel ، گاڈ فادر اور محافظ” کہہ کر مخاطب کیا۔ اسی وقت، اس نے مریض سی اور پیشنٹ ڈی کے ساتھ ڈاکٹرنومبر 2025 میں سزا سنائی جائے گی ڈاکٹر کھلبے نے سوشل میڈیا پر خود کو متاثرہ بتایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جولائی 2020 میں اس کے سابق ملازم نے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور رقم ادا نہ کرنے پر,
جھوٹے الزامات جھوٹے الزامات لگا کر شکایت درج کروائی
۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں جھوٹا “منشیات کا عادی، شرابی اور مریضوں کا استحصال کرنے والا” بتایا گیا ۔ تاہم عدالت نے پیش کیے گئے شواہد اور شہادتوں کی بنیاد پر ڈاکٹر کو قصوروار قرار دیا۔ او پی ایس ڈی ٹی نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین پیشہ ورانہ بدانتظامی کا ہے اور معاشرے میں ڈاکٹروں کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔ ڈاکٹر کھلبے کا لائسنس عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور حتمی سزا کا فیصلہ نومبر 2025 میں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر نے خود اعتراف کیا کہ ان کا لائسنس کم از کم پانچ سال کے لیے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی انہیں مریض A کو معاوضے میں17,500 امریکی ڈالر اور ٹریبونل کے اخراجات میں 1.4 لاکھ امریکی ڈالر بھی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔