لاہور زہریلے دہی بھلے کے کھانے سے 2 مزدور جاں بحق خوراک کی حفاظت پر سوالیہ نشان
لاہور – پنجاب کے دارالحکومت میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس نے نہ صرف اہل علاقہ بلکہ پورے ملک میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی۔ اطلاعات کے مطابق دو مزدور، ارشد اور سجاد، مبینہ طور پر زہریلے دہی بھلے کھانے کے بعد جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خوراک کی حفاظت اور دکان داروں کی ذمہ داری کتنی اہم ہے۔
واقعے کی تفصیل
مقامی ذرائع کے مطابق، ارشد اور سجاد معمول کے مطابق کھانے کے لیے باہر گئے اور قریب ہی ایک دکان سے دہی بھلے خریدے۔ کھانے کے کچھ دیر بعد دونوں کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اہل خانہ نے فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا، مگر ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود وہ جان کی بازی ہار گئے۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہی بھلے میں ممکنہ طور پر زہریلے اجزاء یا خراب مواد شامل ہو سکتا تھا، جس کی وجہ سے یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ اہل علاقہ نے کہا کہ یہ حادثہ فوڈ سیفٹی اور دکان داروں کی ذمہ داری پر سوالیہ نشان ہے۔
فوڈ اتھارٹی کی کارروائی
پاکستان فوڈ اتھارٹی (PFA) نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے دکان سے کھانے کے نمونے جمع کر کے لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کھانے کے اجزاء کی مکمل جانچ کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ زہریلے اجزاء کیسے اور کب شامل ہوئے۔
فوڈ اتھارٹی کے حکام نے کہا کہ خوراک میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی صرف قانونی جرم نہیں بلکہ انسانی جان کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔ دکان داروں کو چاہیے کہ وہ ہر وقت خوراک کے معیار کو یقینی بنائیں اور صارفین کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔
پولیس اور تفتیشی کارروائی
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور دکان کے مالک و عملے سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محفوظ شدہ فوڈ نمونوں اور دکان کے بیانات کی بنیاد پر مکمل جانچ کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
اہل خانہ اور معاشرتی ردعمل
ارشد اور سجاد کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں۔ اہل خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں محنتی اور نیک دل انسان تھے، جو اپنی محنت سے روزی کما رہے تھے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار افراد کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کے خطرناک اقدامات کی جرات نہ کرے۔
علاقہ مکینوں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ خوراک کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوامی سطح پر اس واقعے نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ دکانوں اور فوڈ چینز کی نگرانی کتنی ضروری ہے۔
فوڈ سیفٹی اور معاشرتی اہمیت
یہ واقعہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ خوراک کی حفاظت اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا کس حد تک ضروری ہے۔ دکان داروں اور فوڈ چینز کو چاہیے کہ وہ خوراک کے معیار کی ہر صورت حفاظت کریں اور کسی بھی قدم سے صارفین کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات صرف قانونی کارروائی سے نہیں بلکہ معاشرتی شعور اور تعلیم کے ذریعے روکے جا سکتے ہیں۔ والدین اور ادارے نوجوانوں کو محفوظ خوراک کے انتخاب اور دکانوں کی جانچ کی اہمیت سکھائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک واقعات میں کمی آئے۔
حکومت اور قانونی اقدامات
پنجاب حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دکانوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزا دی جائے تاکہ شہری اپنی صحت اور جان کے تحفظ کے لیے محفوظ رہ سکیں۔
معاشرتی پیغام
یہ المناک واقعہ یاد دلاتا ہے کہ خوراک کی حفاظت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ صرف معیاری اور محفوظ خوراک کا انتخاب کرے اور دکانوں و فوڈ چینز کی نگرانی کرے۔
حکومت، فوڈ اتھارٹی اور معاشرتی اداروں کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ عوام کی صحت اور جان کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے اقدامات کو روکا جا سکے۔ ارشد اور سجاد کی موت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محفوظ خوراک سہولت نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔