Advertisement

محبت میں رکاوٹ بن رہی تھی بیٹی، ماں نے عاشق کے ساتھ ایسا کام کر ڈالا کہ سن کر دل دہل جائے

محبت میں رکاوٹ بن رہی تھی بیٹی، ماں نے عاشق کے ساتھ ایسا کام کر ڈالا کہ سن کر دل دہل جائے

تلنگانہ کے ضلع میدک میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ماں نے اپنی معصوم دو سالہ بیٹی کو صرف اس لیے جان سے مار دیا کہ وہ اسے اپنی محبت کی راہ میں رکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔ یہ سانحہ نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک دردناک سوال چھوڑ گیا ہے کہ انسان محبت میں کس حد تک اندھا ہو سکتا ہے۔

Advertisement

واقعے کی کہانی

تلنگانہ کے ضلع میدک کے شیورامپیٹ منڈل کے ایک چھوٹے گاؤں میں ممتا نامی خاتون اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔ ظاہری طور پر اس کی زندگی عام گھریلو خواتین جیسی تھی، لیکن اس کے دل میں ایک راز چھپا ہوا تھا۔ ممتا کو اپنے ہی گاؤں کے رہائشی فیاض نامی شخص سے محبت ہو گئی تھی۔ دونوں کے تعلقات خفیہ طور پر چل رہے تھے، لیکن ممتا کو لگتا تھا کہ اس کی بیٹی ان کے درمیان رکاوٹ ہے اور وہ کبھی اپنی محبت کو کھل کر نہیں جی سکے گی۔

Advertisement

یہ سوچ اسے دن رات بے چین رکھتی تھی۔ کئی بار اس نے فیاض سے بات کی اور دونوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر وہ اپنی محبت کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں بیٹی کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔

لرزہ خیز فیصلہ

ایک رات جب سب لوگ سو چکے تھے، ممتا اور فیاض نے اپنے منصوبے پر عمل کر دیا۔ انہوں نے معصوم بیٹی کو قتل کیا اور اس کی لاش کو گاؤں کے باہر ایک نالے کے قریب دفن کر دیا۔ ان دونوں کو یقین تھا کہ ان کا جرم کبھی بے نقاب نہیں ہوگا اور سب کچھ ہمیشہ کے لیے چھپ جائے گا۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

جرم کا پردہ فاش

ممتا کے والد کو جب اپنی نواسی کی اچانک گمشدگی کا علم ہوا تو ان کا دل فوراً چونک گیا۔ انہوں نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ پولیس نے فوری تحقیقات شروع کیں اور مقامی لوگوں سے بیانات لیے۔ کچھ شواہد اور سراغ ملنے کے بعد پولیس نے ممتا اور فیاض کو آندھرا پردیش کے نرسارپیٹ سے گرفتار کر لیا۔

تفتیش کے دوران جب دونوں سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے جرم کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ انہوں نے بیٹی کو قتل کر کے لاش دفن کی تھی۔

لاش کی برآمدگی اور پوسٹ مارٹم

پولیس نے دونوں کی نشاندہی پر نالے کے قریب سے بچی کی لاش برآمد کی۔ لاش کی حالت اتنی خراب تھی کہ دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ گاؤں کے لوگ یہ منظر دیکھ کر غم سے نڈھال ہو گئے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا گیا تاکہ موت کی صحیح وجہ معلوم کی جا سکے۔

عوامی ردعمل اور غم و غصہ

یہ خبر پھیلتے ہی گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ لوگ حیران اور غمگین تھے کہ ایک ماں اپنی ہی اولاد کے ساتھ ایسا خوفناک ظلم کیسے کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید غصہ اور مذمت کا اظہار کیا گیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف ماں کے رشتے کو داغدار کرتا ہے بلکہ انسانیت کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے۔

قانونی کارروائی

پولیس نے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا اور ان پر قتل اور لاش چھپانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مکمل تفتیش کے بعد کیس کا چالان جمع کروایا جائے گا تاکہ دونوں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جا سکے۔

معاشرتی پہلو

یہ واقعہ ایک بڑا سبق دیتا ہے کہ محبت کے نام پر انسان کس طرح عقل اور اخلاقیات کھو دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے معاشرتی سطح پر شعور بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اپنے مسائل کو ایسے خوفناک راستے پر نہ لے جائیں۔

یہ کیس ابھی زیرِ تفتیش ہے لیکن اس نے معاشرے کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انسانی جان کی اہمیت کہاں کھو گئی ہے۔

Leave a Comment