بے حس بیٹیوں نے باپ کے آخری لمحات کا وی لاگ بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا – انسانیت کہاں گئی
پاکستان میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال جہاں کئی مثبت رجحانات لے کر آیا ہے، وہیں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو انسانیت اور اخلاقیات پر گہرے سوال کھڑے کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے ہر ذی شعور کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے میں چند بیٹیوں نے اپنے باپ کے زندگی کے آخری لمحات کو وی لاگ میں ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا۔ یہ ویڈیو چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوگئی اور عوامی ردعمل نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
واقعے کی تفصیل
مقامی ذرائع اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بیمار باپ اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا تھا۔ ایسے وقت میں عام طور پر گھر والے قرآن خوانی کرتے ہیں یا مریض کے لیے دعائیں کرتے ہیں تاکہ وہ سکون کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو سکے۔ لیکن اس کیس میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔
بیٹیوں نے بجائے دعا کرنے کے اپنے موبائل فون نکالے اور اس لمحے کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنے لگیں۔ ویڈیو میں یہ تک سنائی دیا کہ وہ اپنے والد سے کہہ رہی ہیں کہ لوگوں کو کہیں وہ ان کا چینل لائیک اور سبسکرائب کریں۔ یہ لمحہ ہر دیکھنے والے کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ والد زندگی اور موت کے درمیان جدوجہد کر رہا تھا اور بیٹیاں ہنس رہی تھیں۔
ویڈیو وائرل ہونے پر عوامی ردعمل
ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے کے بعد تیزی سے وائرل ہو گئی اور ہزاروں لوگوں نے اس پر تبصرے کیے۔ زیادہ تر صارفین نے اسے اخلاقی تنزلی کی انتہا قرار دیا اور کہا کہ یہ لمحہ دعا اور صبر کا تھا، نہ کہ مزاح اور کانٹینٹ بنانے کا۔
کئی صارفین نے بیٹیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا کی دوڑ میں ہم اپنی اقدار اور جذبات کھو چکے ہیں۔
ماہرین اور علماء کا مؤقف
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرتی زوال کی واضح علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں انسان اپنی حساسیت کھو بیٹھا ہے۔ دکھ اور درد کو بھی اب “کنٹینٹ” سمجھا جانے لگا ہے جو کہ نہایت خطرناک رجحان ہے۔
علماء نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ایسے موقع پر ذکر، دعا اور کلمہ پڑھنا سب سے اہم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری وقت میں مریض کو سکون پہنچانا سنت ہے، لیکن یہاں الٹا تماشا بنایا گیا۔
قانونی پہلو اور ذمہ داری
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ویڈیو باپ کی اجازت کے بغیر بنائی اور اپ لوڈ کی گئی ہے تو یہ پرائیویسی کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے کیسز میں قانون کو حرکت میں آنا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسے حساس لمحات کو تفریح کا ذریعہ نہ بنائے۔
معاشرتی اثرات
اس واقعے نے عوام کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں کہاں حد مقرر کرنی چاہیے۔ نوجوان نسل ویوز اور لائکس کے لیے کسی بھی حد تک جا رہی ہے، اس لیے والدین اور اساتذہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انہیں شعور دیں کہ کون سا مواد مناسب ہے اور کون سا نہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زندگی کے کچھ لمحات اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ وہ صرف گھر کے افراد کے درمیان ہی رہنے چاہئیں۔ ایسے لمحات کو دنیا کے سامنے لانے سے نہ صرف اخلاقی اقدار مجروح ہوتی ہیں بلکہ انسانی رشتوں کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے۔
معاشرتی پیغام
یہ افسوسناک واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ انسانیت، ہمدردی اور اخلاقیات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ چاہے سوشل میڈیا کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، کچھ چیزیں نجی زندگی کا حصہ رہنی چاہئیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کا شعور دیں اور یہ سمجھائیں کہ شہرت کے لیے کسی کے درد یا آخری لمحات کو کانٹینٹ بنانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ معاشرتی اقدار کے بھی خلاف ہے۔