چیچہ وطنی: تھانہ شاہکوٹ میں معصوم بچی کھیتوں سے زندہ حالت میں ملی — علاقہ سوگوار
چیچہ وطنی کے علاقے تھانہ شاہکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ اہل علاقہ کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایک معصوم بچی کھیتوں میں نیم مردہ حالت میں ملی جس نے ہر سننے والے کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے اسے پیدائش کے فوراً بعد جان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا ہو۔ یہ خبر جیسے ہی پھیلی، گاؤں میں خوف اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
واقعہ کی تفصیل
ایک کسان جو شام کے وقت کھیتوں میں کام کر رہا تھا، اچانک اسے رونے کی مدھم آواز سنائی دی۔ پہلے تو اس نے سمجھا کہ شاید کوئی جانور ہے لیکن جب قریب پہنچا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ وہاں ایک نومولود بچی کچی زمین پر پڑی تھی، اس کا جسم مٹی اور خراشوں سے بھرا ہوا تھا۔ کسان نے گھبرا کر شور مچایا جس پر گاؤں کے لوگ وہاں پہنچ گئے۔ سب نے فوراً بچی کو اٹھایا اور احتیاط سے قریبی کلینک منتقل کر دیا۔
طبی معائنہ اور حالت
ڈاکٹروں نے بچی کو ایمرجنسی میں داخل کیا اور بتایا کہ وہ شدید کمزوری اور پانی کی کمی کا شکار ہے۔ اس کے جسم پر زخم اور خراشیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ کئی گھنٹے کھلے کھیت میں پڑی رہی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بروقت طبی امداد نہ ملتی تو بچی کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ فی الحال بچی کو حفاظتی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹرز پرامید ہیں کہ وہ مکمل صحتیاب ہو جائے گی۔
پولیس کی کارروائی
واقعے کی اطلاع پر پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ جائے وقوعہ سے مٹی کے نمونے اور کپڑے فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں تاکہ وقت اور حالات کا تعین ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قریبی دیہات میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ بچی کس کی ہے اور کس نے اسے یہاں چھوڑا۔ پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
اہل علاقہ کا ردعمل
یہ خبر پورے علاقے میں غم اور غصے کا باعث بنی۔ گاؤں کے بزرگوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں جو معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا ظلم نہ کر سکے۔ بچی کو دریافت کرنے والے کسان نے کہا کہ وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ تھا، مگر وہ خوش ہے کہ اس نے بروقت اطلاع دے کر ایک جان بچائی۔
انسانی حقوق اور سماجی تنظیموں کا مؤقف
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے معاشرتی زوال کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے بچوں کے لیے شیلٹر ہومز بنانے چاہئیں اور والدین کو شعور دینا چاہیے تاکہ ایسے واقعات روکے جا سکیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
حکومت کا نوٹس
ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ 48 گھنٹوں میں واقعہ کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ انصاف میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ حکومت پنجاب نے بھی اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
معاشرتی سبق
یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک کڑا سبق ہے کہ ہمیں اپنے معاشرتی اور خاندانی نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی حفاظت اور کفالت کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں۔ معاشرتی سطح پر بھی ایسے بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنی ضروری ہیں۔ اگر حکومت، پولیس اور عوام مل کر ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے قدم اٹھائیں تو مستقبل میں اس قسم کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔