Advertisement

کراچی قیوم آباد میں کم عمر بچیوں سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

کراچی قیوم آباد میں کم عمر بچیوں سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک قیوم آباد میں ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ کم عمر بچیوں کو نشانہ بنانے والا درندہ صفت ملزم آخرکار پولیس کی گرفت میں آ گیا۔ اس خبر نے علاقے میں خوف اور والدین کے دلوں میں گہری تشویش پیدا کر دی۔ لوگ سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے درندوں کو سخت سے سخت اور عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ کوئی اور شخص اس طرح کی حرکت کرنے کی ہمت نہ کرے۔

Advertisement

 واقعہ کی تفصیل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ شخص کئی دنوں سے قیوم آباد میں کم عمر بچیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتا اور ان کے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔ متاثرہ بچیوں کے والدین نے بتایا کہ یہ شخص اکثر محلے میں چکر لگاتا رہتا تھا اور تنہا کھیلتی ہوئی بچیوں کو نشانہ بناتا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ایک بچی نے حوصلہ دکھایا اور اپنے گھر والوں کو ساری حقیقت بتائی۔ اہل خانہ نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد علاقے میں کارروائی شروع کی گئی۔

Advertisement

پولیس کی کارروائی اور گرفتاری

پولیس نے متاثرہ خاندان کی شکایت پر فوری حرکت میں آتے ہوئے علاقے کی ناکہ بندی کی اور مشکوک افراد پر نظر رکھنی شروع کر دی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور اہل علاقہ کے تعاون سے ملزم کی شناخت کی گئی اور چند گھنٹوں کے اندر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ کافی عرصے سے اسی علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

 میڈیکل اور فرانزک رپورٹس

پولیس نے متاثرہ بچیوں کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے جن میں زیادتی کی تصدیق ہو گئی۔ فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں جو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ثبوت مضبوط ہیں اور کیس کو اس طرح تیار کیا جا رہا ہے کہ عدالت میں مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دلائی جا سکے۔

 اہل علاقہ اور والدین کا ردعمل

اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کو گھروں سے غیر ضروری طور پر باہر نہ جانے کی ہدایت دی ہے۔ محلے کے لوگ پولیس کی فوری کارروائی پر مطمئن ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے مجرموں کو کھلے عام عبرت کا نشان نہ بنایا جائے، ایسے واقعات رک نہیں سکتے۔

 انسانی حقوق اور سماجی تنظیموں کا موقف

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کیسز کے لیے فوری اور تیز رفتار ٹرائل کا انتظام کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بروقت انصاف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے مجرموں کو جلد اور سخت سزا نہ دی گئی تو معاشرے میں یہ جرائم مزید بڑھتے جائیں گے۔

 قانونی کارروائی اور اگلے اقدامات

پولیس کے مطابق، ملزم کے خلاف انسداد زیادتی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ تمام شواہد اور گواہیاں اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ کیس کو جلد مکمل کر کے عدالت میں چالان جمع کرایا جا سکے۔ سندھ حکومت نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس کو حکم دیا ہے کہ کیس کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔

 معاشرتی پیغام

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف حکومت نہیں بلکہ والدین اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو آگاہی دیں کہ کسی اجنبی کے ساتھ بات نہ کریں اور اگر کوئی غلط حرکت کرے تو فوراً گھر والوں کو اطلاع دیں۔ اگر ایسے مجرموں کو فوری اور سخت سزا دی جائے تو معاشرے میں اس طرح کے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

Leave a Comment