اسلام آباد میں لرزہ خیز سانحہ – باپ، بیٹا اور بیٹی قتل، تفتیش میں اہم انکشافات
واقعہ کی تفصیل
اسلام آباد کے ایک پوش اور پرسکون علاقے میں گزشتہ رات ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد — باپ، بیٹا اور بیٹی — کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس سے پورا محلہ جاگ اٹھا۔ جب لوگ جائے وقوعہ کی طرف دوڑے تو وہاں تینوں کی لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں۔ کسی نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس پر تھانہ کی ٹیم موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا اور تمام شواہد اکٹھے کرنا شروع کیے۔
لاشوں کی منتقلی اور ابتدائی طبی رپورٹ
پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاشوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق تینوں افراد کو قریب سے گولیاں ماری گئیں اور یہ سب کچھ چند سیکنڈز میں ہوا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ نہایت مہارت کے ساتھ کی گئی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حملہ آور پیشہ ور ہو سکتے ہیں۔ اس اندوہناک خبر نے پورے علاقے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا اور لوگ رات گئے تک جائے وقوعہ پر جمع رہے۔
عینی شاہدین اور مقامی افراد کے بیانات
گواہوں کا کہنا ہے کہ دو افراد کو موٹر سائیکل پر علاقے سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا جنہوں نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ مقتول خاندان ایک باعزت اور شریف خاندان تھا، ان کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی۔ مقامی لوگ اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
پولیس کا موقف اور تحقیقات
اسلام آباد پولیس نے واقعہ کی فوری تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق جائے وقوعہ سے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور فرانزک ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار کا سراغ لگایا جا سکے۔ پولیس نے مقتول خاندان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ ممکنہ وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔
ابتدائی انکشافات اور شواہد
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش سے شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ذاتی رنجش، جائیداد کے جھگڑے یا پرانی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ حکام نے قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنی شروع کر دی ہے تاکہ موٹر سائیکل سوار ملزمان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس واقعہ کو پولیس ایک ہائی پروفائل کیس قرار دے رہی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
اہل خانہ اور عوام کا شدید ردعمل
مقتولین کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ظلم اور بربریت کا واقعہ ہے اور وہ انصاف چاہتے ہیں۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے، لوگ اپنے گھروں کے باہر سکیورٹی بڑھانے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بچوں کو رات کے وقت باہر بھیجنے سے گریز کر رہے ہیں۔ عوام نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔
حکومتی اقدامات اور نوٹس
وفاقی وزیر داخلہ نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی مکمل رپورٹ 48 گھنٹوں میں پیش کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ نے بھی اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی پہلو
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ذاتی جھگڑے اور دشمنیاں کس طرح کئی گھروں کو اجاڑ دیتی ہیں۔ ہمیں معاشرے میں صلح اور قانون پر عمل درآمد کو فروغ دینا ہوگا تاکہ لوگ ذاتی انتقام کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔ اگر انصاف کے نظام کو تیز اور مؤثر بنایا جائے تو ایسے واقعات میں واضح کمی آ سکتی ہے اور عوام میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
نتیجہ اور اپیل
یہ سانحہ اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ضروری ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور معاشرے میں امن قائم ہو۔ عوام کو بھی چاہیے کہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس کیس کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔