Advertisement

 مانسہرہ تھانہ خاکی میں فائرنگ کا المناک واقعہ – کلاس فور محمد ایوب قتل

 مانسہرہ تھانہ خاکی میں فائرنگ کا المناک واقعہ – کلاس فور محمد ایوب قتل

 واقعہ کی تفصیل

مانسہرہ کے علاقے تھانہ خاکی کی حدود تمبر کھولہ میں آج ایک دل خراش سانحہ پیش آیا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول تمبر کھولہ کا کلاس فور ملازم محمد ایوب ولد میر غضب اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ اچانک ملزمان وحید ولد غلام حیدر اور رفاقت ولد عبدالرشید نے گھات لگا کر اس پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ اتنی قریب سے کی گئی کہ محمد ایوب موقع پر ہی دم توڑ گیا اور پورا علاقہ خوف و ہراس میں مبتلا ہو گیا۔

Advertisement

لاش کی منتقلی اور ابتدائی کارروائی

حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد موقع پر پہنچے اور پولیس کو اطلاع دی۔ لاش کو فوری طور پر کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اسے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ گاؤں میں اس سانحے کے بعد سوگ کی فضا چھا گئی اور لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے۔

Advertisement

 عینی شاہدین کے بیانات

موقع پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ اچانک ہوا اور مقتول کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ چند لمحوں میں پورا علاقہ گولیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ گاؤں کے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے اور مقتول کے لیے دعا کی۔ سب نے یک زبان ہو کر مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔

پولیس کا موقف اور تفتیش

پولیس تھانہ خاکی کی ٹیم موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ سرچ آپریشن جاری ہے اور قریبی علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی اطلاع کی صورت میں فوراً پولیس کو آگاہ کریں۔

 علاقائی فضا اور عوامی ردعمل

گاؤں میں ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے، لوگ غم سے نڈھال ہیں اور مقتول کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ محمد ایوب نہایت شریف النفس اور محنتی انسان تھے۔ ان کا قتل پورے علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ لوگ حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ متاثرہ خاندان کی مالی اور قانونی مدد کی جائے اور علاقے میں پولیس گشت بڑھایا جائے تاکہ امن قائم رہے۔

 معاشرتی پیغام

“یہ واقعہ ایک تلخ سبق ہے کہ ذاتی دشمنیاں کس طرح کئی گھروں کو اجاڑ دیتی ہیں۔ ہمیں ایسے تنازعات کو حل کرنے کے لیے قانون کا سہارا لینا چاہیے، خود انتقام لینے سے مزید خون خرابہ ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں قانون پر سختی سے عمل ہو تو اس طرح کے واقعات کم ہو سکتے ہیں۔
ہمیں نوجوان نسل کو بھی اس بات کی تعلیم دینی چاہیے کہ دشمنی اور انتقام کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
علاقائی سطح پر جرگہ یا ثالثی کمیٹیاں بنائی جا سکتی ہیں جو تنازعات کو حل کریں۔
حکومت کو چاہیے کہ ایسے علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال کرے۔
علماء اور سماجی رہنما بھی آگے بڑھیں اور لوگوں میں برداشت اور صبر کا پیغام عام کریں۔
اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو اپنے علاقے کو پرامن بنا سکتے ہیں اور آئندہ ایسی خونریزی سے بچ سکتے ہیں۔”

 مذمت اور انصاف کا مطالبہ

مقامی سماجی رہنماؤں اور عوام نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے، مجرموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو سہارا دیا جائے تاکہ وہ اس بڑے صدمے سے باہر آ سکیں۔

Leave a Comment