ہری پور: شادی شدہ خاتون سے مبینہ طور پر 5 افراد کی اجتماعی زیادتی – المناک واقعہ
ہری پور – خیبرپختونخوا کے پرامن شہر ہری پور میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ سامنے آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک شادی شدہ خاتون کو پانچ افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کے شہریوں کو شدید صدمے اور خوف میں مبتلا کر دیا۔ لوگ سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے درندہ صفت افراد کو فوری اور سخت سزا دی جائے۔
واقعے کی تفصیل
مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون گھر سے ضروری سامان لینے بازار گئی تھی۔ راستے میں نامعلوم افراد نے اسے زبردستی ایک ویران مقام پر لے جا کر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ پانچ افراد باری باری اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے شدید تکلیف اور صدمے میں مبتلا کیا۔ بعد ازاں اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا، جہاں سے مقامی لوگ اسے دیکھ کر فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہوئے۔
طبی معائنہ اور رپورٹ
ڈاکٹروں نے خاتون کا فوری معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ اس پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں واضح طور پر جسمانی نشانات درج ہیں اور بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون شدید صدمے میں ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ خاتون کو کئی دنوں تک نفسیاتی اور جسمانی نگہداشت کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو سکے اور اس صدمے سے باہر آ سکے۔
پولیس کارروائی اور مقدمہ
پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیان پر فوری مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایس ایچ او کے مطابق پانچوں ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور گرفتاریوں کی توقع ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور فرانزک ٹیم کو طلب کیا تاکہ کیس مضبوط ہو اور عدالت میں تمام شواہد پیش کیے جا سکیں۔ ضلعی پولیس افسر نے کہا کہ یہ کیس ان کے لیے اولین ترجیح ہے اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
متاثرہ خاندان کا ردعمل
متاثرہ خاتون کے شوہر اور اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بھیانک لمحہ تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص اس طرح کے سنگین جرم کی جرات نہ کرے۔ اہل علاقہ نے بھی واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور انصاف کے لیے نعرے بلند کیے۔
سماجی تنظیموں اور عوام کا موقف
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے کیسز کے لیے فوری اور خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو بروقت انصاف مل سکے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ جب تک ایسے مجرموں کو کھلے عام عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، معاشرے میں یہ قسم کے واقعات رک نہیں سکیں گے۔
قانونی کارروائی اور حکومت کا نوٹس
حکومت خیبرپختونخوا نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ 48 گھنٹوں کے اندر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری مکمل کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ انصاف فراہم کیا جائے گا۔ وکلا برادری نے بھی اعلان کیا کہ وہ متاثرہ خاتون کو مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے تاکہ عدالت میں اس کے حقوق کا تحفظ ہو۔
معاشرتی پیغام
یہ المناک واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک کڑا سبق ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین اور خاندانوں کو چاہیے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کو محفوظ راستے فراہم کریں اور انہیں یہ شعور دیں کہ کسی بھی خطرناک صورتحال میں فوراً مدد طلب کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے مجرموں کے خلاف سخت قانون سازی کرے اور تیز ترین انصاف فراہم کرے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کے سنگین جرم کی جرات نہ کرے۔