پمز اسلام آباد میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 11 ماہ کا معصوم بچہ جاں بحق
تعارف
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ نہ صرف ایک ننھے پھول کی زندگی ختم کر گیا بلکہ ہمارے صحت کے نظام پر بھی کئی سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے۔ ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کا رہائشی گیارہ ماہ کا بلاج 24 اگست 2025 کی رات اپنے والد کی بانہوں میں دم توڑ گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ڈاکٹروں اور عملے کی مبینہ غفلت کے باعث ہوا۔ اس خبر نے والدین کو توڑ کر رکھ دیا ہے اور عوام میں بھی شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
بلاج کے والد کے مطابق، ان کا بچہ پورے دن بالکل ٹھیک رہا۔ اس نے چاول کھائے، کھیل کود کیا اور ہنستا رہا۔ لیکن شام کو جب اسپتال پہنچے تو حالات اچانک بدل گئے۔ والد نے بار بار ڈاکٹروں سے کہا کہ خون لگانے سے پہلے مکمل خون کا ٹیسٹ (سی پی) کیا جائے، مگر ان کی درخواست کو اہمیت نہیں دی گئی۔ یہی لاپرواہی بعد میں جان لیوا ثابت ہوئی۔
خون کا پہلا بیگ دیر سے آیا اور عملے نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ “دو گھنٹے گزرنے کے بعد یہ خون قابل استعمال نہیں رہا۔” رات تقریباً 9 بجے دوسرا بیگ آیا، لیکن پہلے پلیٹ لیٹس لگائے گئے اور کئی گھنٹے بعد خون چڑھایا گیا۔
علاج میں مبینہ کوتاہی
اہل خانہ کے بقول جب خون لگ رہا تھا تو بیگ میں بلبلے بننے لگے۔ والد نے فوراً ڈاکٹروں کو آگاہ کیا اور خون روکنے کی درخواست کی، مگر ان کی بات سننے کے بجائے عملے نے علاج جاری رکھا۔ کچھ ہی دیر میں بچے کے ناک اور کان سے خون بہنے لگا۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے بروقت علاج کرنے کے بجائے کہا کہ “آئی سی یو میں جگہ نہیں، بچے کو پولی کلینک لے جائیں۔” جب تک بچہ پولی کلینک پہنچایا گیا، تب تک دیر ہو چکی تھی۔ بلاج نے اپنے والد کی گود میں دم توڑ دیا۔
بیماری اور والدین کا موقف
بلاج خون کی بیماری Aplastic Anemia/HLH کا مریض تھا۔ والد کے مطابق بچہ اس وقت مستحکم حالت میں تھا اور اگر مناسب اور بروقت علاج ملتا تو وہ زندہ رہ سکتا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بچے کی موت صرف اسپتال کی غفلت اور غلط بلڈ ٹرانسفیوژن کی وجہ سے ہوئی۔
اہل خانہ کے مطالبات
غم سے نڈھال والدین نے واضح کیا کہ یہ سانحہ صرف ان کے بچے کی موت نہیں بلکہ ہر اس والدین کے اعتماد پر کاری ضرب ہے جو اپنے بچوں کو علاج کی نیت سے اسپتال لے کر جاتے ہیں۔ ان کے مطالبات یہ ہیں:
اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کو کڑی سزا دی جائے۔
اسپتالوں میں جدید، مؤثر اور جواب دہ نظام قائم کیا جائے تاکہ آئندہ ایسی غفلت نہ ہو۔
عوامی ردِعمل
یہ واقعہ مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور ہر جگہ غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے سب سے بڑے اور مرکزی اسپتال میں یہ صورتحال ہے تو چھوٹے شہروں اور دیہات کے اسپتالوں کا کیا حال ہوگا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اصلاحات کرے تاکہ مریضوں کی زندگیاں محفوظ بن سکیں۔
صحت کے نظام پر سوالیہ نشان
پاکستان کا صحت کا نظام پہلے ہی بدانتظامی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بحران میں ہے۔ ایسے حالات میں پمز جیسے بڑے اسپتال میں ایک معصوم جان کی ضائع ہونا پورے سسٹم کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خون لگانے سے پہلے ضروری ٹیسٹ اور حفاظتی اقدامات لازمی ہیں۔ بلڈ بینک کے عملے کی تربیت اور نگرانی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ اس قسم کے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔
نتیجہ
گیارہ ماہ کے بلاج کی موت نے نہ صرف اس کے والدین کو عمر بھر کا دکھ دیا بلکہ ہمیں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ اگر ہمارے اسپتالوں میں شفافیت اور ذمہ داری نہ اپنائی گئی تو مزید زندگیاں خطرے میں پڑتی رہیں گی۔
اب وقت ہے کہ حکومت اور وزارتِ صحت اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں، غفلت برتنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور ایسا نظام قائم کریں جہاں مریضوں کی زندگی سب سے پہلی ترجیح ہو۔