Advertisement

مانسہرہ بس حادثہ باراتیوں کی خوشیاں غم میں بدل گئیں

مانسہرہ بس حادثہ باراتیوں کی خوشیاں غم میں بدل گئیں

تعارف

مانسہرہ میں پیش آنے والا حالیہ بس حادثہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے خوشیوں کو پل بھر میں غم میں بدل دیا۔ باراتیوں سے بھری بس گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ 25 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے دل خراش ہے بلکہ ٹریفک کے نظام اور حکومتی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

Advertisement

واقعے کی تفصیلات

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور سیدھی کھائی میں جا گری۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ اس اچانک پیش آنے والے سانحے نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔

Advertisement

متاثرین کی حالت

ابتدائی رپورٹس کے مطابق دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 25 بتائی گئی ہے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے اور کچھ مریضوں کو ایبٹ آباد اور دیگر بڑے اسپتالوں میں ریفر کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے گھروں میں کہرام مچ گیا ہے اور گاؤں کی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔

حادثے کی ممکنہ وجوہات

پاکستان کے پہاڑی علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں ایسے حادثات عام ہیں۔ ان کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

تیز رفتاری اور بے احتیاطیڈرائیور کی غفلتپرانی اور خستہ حال گاڑیاںپہاڑی سڑکوں کی ناقص حالت

مانسہرہ جیسے علاقوں میں ڈرائیونگ کرتے وقت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر ڈرائیور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی لاپرواہی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔

عوامی ردعمل

حادثے کی خبر سنتے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی افراد نے انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر سڑکوں کی بروقت مرمت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کیا جاتا تو یہ سانحہ ٹالا جا سکتا تھا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پہاڑی علاقوں میں ٹریفک کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے حادثات نہ ہوں۔

احتیاطی تدابیر

ماہرین اور عوامی نمائندوں کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے درج ذیل اقدامات لازمی ہیں:

پہاڑی سڑکوں پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور مرمتڈرائیوروں کو خصوصی تربیت اور بریفنگ دینا

پرانی اور خستہ گاڑیوں کو روڈ پر چلنے سے روکنا

ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد

عوام میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اپنانے کی آگاہی

نتیجہ

مانسہرہ بس حادثہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک لمحے کی لاپرواہی کس طرح کئی گھروں کو اجاڑ دیتی ہے۔ یہ حادثہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں مزید خاندان اسی دکھ اور کرب کا شکار ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Comment