ہری پور کا سانحہ – ڈھینڈہ میں سانپ کے کاٹنے سے معصوم بچہ جاں بحق
ہری پور کے نواحی گاؤں ڈھینڈہ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو غمگین اور سوگوار کر دیا۔ گاؤں کا ایک ننھا بچہ کھیلتے کھیلتے سانپ کے کاٹنے کی زد میں آ گیا اور زہر کے اثرات برداشت نہ کر سکا۔ یہ افسوسناک خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر کوئی صدمے میں ڈوب گیا۔
واقعہ کیسے ہوا؟
اہلِ علاقہ کے مطابق شام کے وقت بچہ اپنے گھر کے قریب جھاڑیوں کے پاس کھیل رہا تھا کہ اچانک ایک زہریلا سانپ نکل آیا۔ بچے کو کاٹنے کے بعد اس کی حالت چند لمحوں میں بگڑنے لگی۔ والدین اور رشتہ دار اسے فوراً قریبی اسپتال لے جانے لگے مگر زہر اتنی تیزی سے پھیل گیا کہ بچہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر اہل خانہ پر غشی طاری ہو گئی۔
غم سے نڈھال خاندان
بچے کی اچانک موت نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔ والدہ بار بار بے ہوش ہو رہی ہیں جبکہ بہن بھائی اور دیگر رشتہ دار صدمے کی حالت میں ہیں۔ گاؤں کے درجنوں لوگ تعزیت کے لیے گھر پہنچے اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ اتنی کم عمری میں موت ایک ایسا دکھ ہے جسے برسوں گزرنے کے بعد بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔
مقامی افراد کی پریشانی
علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ برسات کے موسم میں سانپ اکثر گھروں کے قریب آ نکلتے ہیں۔ کئی بار لوگ زہریلے سانپوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے ہیں لیکن قریبی اسپتالوں میں اینٹی وینم کی کمی کی وجہ سے جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ لوگوں نے حکومت سے شکوہ کیا کہ اگر اسپتال میں بروقت دوا موجود ہوتی تو یہ معصوم بچہ شاید آج زندہ ہوتا۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سانپ کے زہر کی شدت کے مطابق متاثرہ شخص چند منٹوں یا چند گھنٹوں میں موت کے دہانے تک پہنچ سکتا ہے۔ فوری طبی امداد اور اینٹی وینم کے بغیر بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے دیہی علاقوں میں طبی سہولیات اور بروقت علاج زندگی اور موت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
عوامی مطالبات
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
-
دیہی اسپتالوں میں سانپ کے کاٹنے کی دوا ہر وقت موجود ہو۔
-
جھاڑیوں کو کاٹ کر صاف ستھرا ماحول بنایا جائے تاکہ سانپ چھپ نہ سکیں۔
-
عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے کہ کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر مریض کو ہسپتال لے جایا جائے۔
-
دیہی علاقوں کے اسپتالوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق اگر چند بنیادی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں تو سانپ کے کاٹنے کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
بچوں کو اکیلا جھاڑیوں یا کھیتوں میں کھیلنے نہ دیا جائے۔رات کو زمین پر سونے کے بجائے چارپائی کا استعمال کیا جائے۔گھروں کے اردگرد جھاڑیوں کو ختم کر کے صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔سانپ کے کاٹنے کے بعد دیسی ٹوٹکوں پر وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ فوراً ہسپتال لے جایا جائے۔
گاؤں میں سوگ کی فضا
اس واقعے کے بعد ڈھینڈہ گاؤں کی فضا سوگوار ہے۔ ہر چہرہ غم میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کر رہے ہیں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ ایک بڑا سبق ہے کہ بروقت علاج اور حفاظتی اقدامات انسان کی زندگی بچا سکتے ہیں۔
نتیجہ
ڈھینڈہ گاؤں میں بچے کی ناگہانی موت ایک المیہ ہے جس نے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اگر اسپتالوں میں اینٹی وینم کی فراہمی یقینی بنائی جائے، آگاہی بڑھائی جائے اور احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں تو آئندہ ایسے کئی حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اسی طرح کے سانحات دیہی علاقوں میں پیش آتے رہیں گے اور معصوم جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔