ضلع خیبر تحصیل لنڈی کوتل کا سانحہ – پانچ سالہ بچی پانی میں ڈوب کر جاں بحق
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں ایک ایسا دلخراش حادثہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ اسٹیشن خیل گاؤں میں فضل اکبر عرف فوجی کی معصوم پوتی، پانچ سالہ ملائیکہ، کھیلتے کھیلتے قریب موجود سیلابی نالی (خوڑ) کے ایک گہرے گڑھے میں جا گری اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔ یہ سانحہ نہ صرف خاندان بلکہ پورے گاؤں کے لیے ناقابلِ برداشت دکھ کا سبب بن گیا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
عینی شاہدین کے مطابق ملائیکہ اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ کھیل کے دوران وہ نالی کے قریب جا پہنچی جہاں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث کئی گہرے گڑھے بن گئے تھے۔ بدقسمتی سے بچی انہی میں سے ایک گڑھے میں گر گئی۔ اہلِ خانہ اور گاؤں کے لوگ فوراً مدد کے لیے دوڑے، مگر پانی کی گہرائی نے اس ننھی جان کو بچنے کا کوئی موقع نہ دیا۔
خاندان کا غم اور کرب
فضل اکبر اور ان کے اہلِ خانہ صدمے سے نڈھال ہیں۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ملائیکہ گھر کی رونق تھی اور اس کی مسکراہٹ سب کے دلوں کو خوش کر دیتی تھی۔ اتنی کم عمر میں اس طرح کی ناگہانی موت نے سب کے دل توڑ دیے ہیں۔ گاؤں کے لوگ بھی اس حادثے کو اپنے ذاتی نقصان کی طرح محسوس کر رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کی تشویش
علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر سال بارشوں اور سیلاب کے بعد ندی نالوں میں خطرناک گڑھے بن جاتے ہیں جن میں پانی بھرنے کے بعد یہ بچوں کے لیے جان لیوا جال ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے بروقت اقدامات کرنے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے ایسے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں۔
بارشوں کے نقصانات
گزشتہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں نے ضلع خیبر میں تباہی مچائی۔ سیلابی پانی کھیتوں اور مکانات کو نقصان پہنچا گیا اور نالیوں کے کناروں پر گہرے گڑھے بن گئے۔ یہ گڑھے نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق اگر حکومت فوری اقدامات کرے تو کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
عوامی مطالبہ
اہلِ علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان گڑھوں کو بھرا جائے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم سب مل کر ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بارشوں اور سیلابی دنوں میں اپنے بچوں کو ندی نالوں اور خوڑ کے قریب نہ جانے دیں۔ اسی طرح حکومت کو حفاظتی بورڈ، رکاوٹیں اور ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔ آگاہی مہمات بھی ضروری ہیں تاکہ لوگ خطرات سے باخبر رہیں۔
گاؤں کی فضا
اس حادثے کے بعد پورا گاؤں سوگ میں ڈوب گیا۔ لوگ فضل اکبر کے گھر پہنچ کر اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت کرتے رہے۔ ہر کسی کی آنکھ نم تھی اور گاؤں والے کہہ رہے تھے کہ ملائیکہ کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ ان کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
نتیجہ
لنڈی کوتل میں پانچ سالہ بچی کی موت ایک دردناک سانحہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات کے بعد حفاظتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام سب مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ایسے دلخراش حادثات کو مستقبل میں روکا جا سکتا ہے۔ یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک سبق ہے کہ احتیاط ہی زندگی ہے۔