Advertisement

ہوس میں بے بس ماں، عاشق کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں بسترتھی، کمرے میں آگیا بیٹا،

ہوس میں بے بس ماں، عاشق کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں بسترتھی، کمرے میں آگیا بیٹا، بولی : سنو تم اسے… پھر…

کیا ایک ماں کی محبت بھی اتنی بے بس ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ہی بیٹے کی جان لے لے؟ اترپردیش کے وارانسی سے ایک ایسا خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ماں کی محبت کو شرمندہ کر دیا۔ ایک دس سالہ معصوم بچے کو اس کی اپنی ماں نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر بے دردی سے قتل کر دیا، صرف اس لیے کہ اس نے ان دونوں کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ یہ کہانی صرف ایک خاندانی جرم نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ کا ایک افسوسناک ثبوت ہے۔

Advertisement

ناجائز تعلقات کی پردہ پوشی کا ہولناک نتیجہ

پولیس کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے نے اپنی ماں کو اس کے عاشق کے ساتھ دیکھا۔ ماں کو یہ خوف تھا کہ اس کا بیٹا یہ راز اپنے والد کو نہ بتا دے۔ اس خوف نے اسے ایک ایسے گھناؤنے جرم کی طرف دھکیل دیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قتل صرف ایک 10 سالہ بچے کا قتل نہیں تھا بلکہ اعتماد اور رشتوں کے تقدس کا بھی قتل تھا۔ ماں اور اس کے عاشق نے مل کر بچے کا گلا گھونٹ دیا، جس کے بعد انہوں نے لاش کو جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ یہ واقعہ ناجائز تعلقات کے بھیانک نتائج کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

Advertisement

قانونی کارروائی اور ملزم کی فائرنگ

اس جرم کی پردہ پوشی کے لیے ملزمہ ماں نے خود ہی پولیس تھانے جا کر اپنے بیٹے کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ تاہم، پولیس نے اپنی تفتیش شروع کی تو جلد ہی انہیں ماں کے غیر اخلاقی رویے کا پتہ چل گیا۔ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران، عاشق نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ جب اسے جائے وقوعہ پر لے جایا گیا تو اس نے پولیس کا پستول چھین کر بھاگنے کی کوشش کی اور پولیس پر فائرنگ بھی کر دی۔ وہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجرم اپنے جرم کو چھپانے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

معاشرتی اثرات اور عوامی صدمہ

وارانسی جیسے مذہبی شہر میں اس موضوع بحث نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ کوئی ماں اپنے ہی بچے کے ساتھ کیسے اتنی بے رحمی کر سکتی ہے۔ یہ واقعہ ایک عوامی صدمہ بن چکا ہے اور اس نے خاندانی اقدار اور اخلاقیات کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ہمیں اپنے خاندان اور رشتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

نتیجہ اور اپیل

 

یہ دل دہلا دینے والا اترپردیش کرائم نیوز واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرتی اقدار کی گراوٹ کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کے بچے پر ظلم کی ہمت نہ کرے۔ یہ واقعہ ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے ہر رشتے میں ایمانداری اور وفاداری کتنی ضروری ہے۔

Leave a Comment