Advertisement

جبری جسم فروشی اور استحصال

جبری جسم فروشی اور استحصال

یہ واقعہ جبری جسم فروشی کے لیے اغوا، نشہ آور اشیاء کے استعمال اور انسانی اسمگلنگ کو نمایاں کرتا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، لڑکی کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ آٹھ طویل مہینوں تک قید میں رہی، اس دوران وہ حاملہ بھی ہو گئی اور پھر اسے زبردستی اسقاط حمل پر مجبور کیا گیا۔ اس صورتحال میں، اس کی آزادی مکمل طور پر چھین لی گئی تھی اور اسے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ چونکا دینے والی تفصیلات جنسی استحصال اور اسمگلنگ کی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں، جو ہمارے معاشرے میں ایک پوشیدہ لیکن سنگین مسئلہ ہے۔

Advertisement

دھمکیاں، اسقاط حمل اور قتل کی کوشش

جب لڑکی نے پولیس میں شکایت کرنے کی دھمکی دی تو ملزم اور اس کے گھر والوں نے اسے مستقل طور پر خاموش کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ ان کے گھناؤنے جرائم کا کوئی بھی ثبوت باقی نہ رہے۔ اسے ایک ریلوے ٹریک پر لے جایا گیا تاکہ اس کی موت کو ایک “حادثہ” ظاہر کیا جا سکے اور وہ سب اپنے جرم سے بچ سکیں۔ تاہم، لڑکی نے بہادری سے اپنے بوائے فرینڈ کے فون سے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک لمحہ تھا جس نے اس کی زندگی بچائی۔ ان کی مدد سے، وہ فرار ہوئی اور بالآخر پولیس تک پہنچی، جہاں اس نے اپنی خوفناک کہانی بیان کی۔

Advertisement

پولیس کارروائی اور قانونی دفعات

شکایت موصول ہونے کے بعد پانی پت پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی۔ پولیس نے اس کیس کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری تحقیقات شروع کر دیں۔ اس جرم میں نہ صرف ایک فرد بلکہ ایک پورا خاندان شامل تھا، اسی لیے چار خواتین سمیت آٹھ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ آئی پی سی اور پوکسو ایکٹ کی گیارہ سنگین دفعات لگائی گئی ہیں جو اس جرم کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایس ایچ او نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

معاشرتی سبق اور احتیاطی تدابیر

یہ واقعہ صرف ایک جرائم کی رپورٹ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک سبق اور انتباہ بھی ہے۔ اس طرح کے جرائم زیادہ تر اس وقت ہوتے ہیں جب نابالغ لڑکیاں محبت اور شادی کے جھوٹے وعدوں سے آسانی سے پھنس جاتی ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کے تعلقات اور سرگرمیوں سے باخبر رہنا چاہیے تاکہ انہیں ایسی صورتحال سے بچایا جا سکے۔ اگر کوئی بھی لڑکی ایسے حالات کا شکار ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس اور خواتین کی ہیلپ لائنز سے رابطہ کرے۔ یہ نہ صرف اس کی زندگی بچا سکتا ہے بلکہ مجرموں کو بھی سزا دلوا سکتا ہے۔

نتیجہ اور اپیل

پانی پت کا یہ افسوسناک واقعہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں معصوم لڑکیوں کے لیے شادی کے جھوٹے وعدے، دھوکہ دہی، اور جبری جسم فروشی جیسے خطرات موجود ہیں۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی کہانیوں سے سبق سیکھیں اور اپنی بچیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے شعور اور قانونی تحفظات پر توجہ مرکوز کریں۔ صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور معاشرتی بیداری پیدا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

Leave a Comment