Advertisement

بھارت کے مندر سے خوفناک انکشاف | سو سے زائد بچیوں کا ریپ اور قتل

 

Advertisement

بھارت کے مندر سے خوفناک انکشاف | سو سے زائد بچیوں کا ریپ اور قتل

دنیا بھر میں جرائم ہوتے ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ بھارت کے ایک مندر سے ایسا لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے کئی برسوں تک درجنوں نہیں بلکہ سو سے زائد معصوم بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور ان کی لاشیں مندر کے احاطے میں دفن کرتا رہا۔

Advertisement

واقعے کی تفصیل

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوں سے کئی برسوں سے بچیاں پراسرار طور پر لاپتہ ہو رہی تھیں۔ جب پولیس نے گہری تفتیش کی تو ان واقعات کا سراغ ایک مقامی مندر تک پہنچا۔ گرفتار شخص نے انکشاف کیا کہ وہ بچیوں کو بہلا پھسلا کر مندر لاتا، ان پر ظلم کرتا اور پھر بے دردی سے قتل کر کے لاشیں وہیں دفن کر دیتا۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو مندر کے مختلف حصوں سے انسانی باقیات، کپڑے اور دیگر شواہد ملے جو اس جرم کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

متاثرین کی تعداد

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ شخص صرف چند واقعات کا نہیں بلکہ سو سے زائد بچیوں کے ریپ اور قتل میں ملوث ہے۔ یہ جرم بھارت کی تاریخ کے بدترین سلسلہ وار جرائم میں شمار کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی حالت زار دیکھ کر ہر کوئی افسردہ اور خوفزدہ ہے۔

عوامی غم و غصہ

اس ہولناک انکشاف کے بعد بھارت بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اور ایسی درندگی کرنے کی جرات نہ کرے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے بھارتی پولیس اور نظام انصاف پر سوالات اٹھائے ہیں کہ آخر یہ سب برسوں تک بغیر پکڑے کیسے چلتا رہا۔

مذہبی مقامات کا غلط استعمال

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بعض اوقات مجرم مذہبی مقامات کو اپنی ہوس اور جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں اس سے قبل بھی ایسے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں جہاں مندروں اور آشرموں کے پردے میں غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے افراد “سیریل ریپسٹ” اور “سیریل کلر” ہوتے ہیں جنہیں اپنی درندگی پر قابو نہیں رہتا۔ یہ لوگ معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور جب تک گرفتار نہ ہوں اپنے جرائم جاری رکھتے ہیں۔

عالمی ردعمل

یہ خبر صرف بھارت تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا بھر کے میڈیا نے اسے رپورٹ کیا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے اسے انسانیت کے لیے شرمناک المیہ قرار دیا اور کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی بچیوں کا غیر محفوظ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سبق اور پیغام

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ بچوں اور خواتین کے تحفظ کے نظام میں شدید خامیاں موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سخت قوانین بنائے، بروقت کارروائی کرے اور ایسے مجرموں کو سخت ترین سزائیں دے۔

والدین اور معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی تاکہ آئندہ کوئی درندہ اس طرح کے جرائم کا سوچ بھی نہ سکے۔

FAQs (اکثر پوچھے جانے والے سوالات)

سوال: کیا بھارت میں اس طرح کے جرائم پہلے بھی رپورٹ ہوئے ہیں؟
جی ہاں، بھارت میں ماضی میں بھی ایسے کئی کیس سامنے آ چکے ہیں جہاں مندروں اور آشرموں میں بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

سوال: حکومت اس واقعے پر کیا اقدامات کر رہی ہے؟
حکومت پر سخت دباؤ ہے کہ وہ اس کیس میں فوری کارروائی کرے، مجرم کو سزا دے اور بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قوانین متعارف کروائے۔

نتیجہ

بھارت کے ایک مندر سے سامنے آنے والا یہ لرزہ خیز واقعہ نہ صرف بھارتی معاشرے بلکہ پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ سو سے زائد معصوم جانوں کے ضائع ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو کئی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے قوانین بنائے جائیں جو مستقبل میں کسی درندے کو اس طرح کی حرکت کا سوچنے بھی نہ دیں۔

Leave a Comment