جب بلاؤگی، آؤں گا… انسٹاگرام کی دوستی نے لیا نیا موڑ
اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو چونکا دیا۔ انسٹاگرام پر شروع ہونے والی ایک دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی۔ خواب دیکھے گئے، وعدے ہوئے، لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ مرکزی کردار ایک ایسا شخص نکلا جو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور بچوں کا باپ بھی ہے، مگر اس کی بیوی نے بھی غیر معمولی ردعمل دے کر سب کو حیران کر دیا۔
انسٹاگرام پر دوستی اور شادی کے وعدے
اطلاعات کے مطابق محی الدین پور کے کلدیپ کمار نے انسٹاگرام پر کانپور کی ایک خاتون سے رابطہ کیا۔ کلدیپ نے خود کو سنگل ظاہر کیا اور دونوں کی بات چیت دو سال تک جاری رہی۔ تعلق مضبوط ہوا اور شادی کے وعدے بھی کیے گئے۔ خاتون کو بھروسہ تھا کہ یہ رشتہ ایک نیا آغاز بنے گا، مگر بعد میں اسے معلوم ہوا کہ کلدیپ پہلے ہی شادی شدہ ہے اور اس کے بچے بھی ہیں۔
حقیقت سامنے آنے پر شکایت درج
جب یہ حقیقت سامنے آئی تو خاتون نے شکایت درج کرائی۔ اسی دوران ایک اور لڑکی بھی سامنے آئی جس نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی کلدیپ کے ساتھ کافی عرصے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس طرح معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔
پولیس کی مداخلت اور جانچ
یہ معاملہ پولیس اسٹیشن تک پہنچا۔ خاتون نے اپنا مؤقف رکھا جبکہ کلدیپ کی اہلیہ رادھا نے بھی اپنے شوہر کے بارے میں بیان دیا۔ جانچ کے بعد سب کچھ واضح ہو گیا۔ طویل گفت و شنید کے بعد پولیس کی موجودگی میں سمجھوتہ طے پایا۔
بیوی کا حیران کن ردعمل
سب سے حیرت انگیز پہلو یہ تھا کہ کلدیپ اور اس کی بیوی رادھا نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا۔ طے ہوا کہ کلدیپ اپنی بیوی کے ساتھ گاؤں میں رہے گا لیکن اگر وہ اپنی دوست سے ملنے کانپور جانا چاہے تو جا سکے گا۔ رادھا نے کہا کہ اسے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل کہانی
یہ معاملہ تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ لوگ اسے ایک غیر معمولی کہانی قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر رشتے بنانے کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔
کہانی سے سیکھنے کا سبق
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ تعلقات ہمیشہ اعتماد اور سچائی پر قائم ہونے چاہئیں۔ ورنہ سب کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے مطابق یہ معاملہ بارہ بنکی کے محی الدین پور گاؤں میں پیش آیا۔ مرکزی کردار کلدیپ شادی شدہ ہے اور بچے بھی ہیں۔ پولیس نے فریقین کو بلا کر سمجھوتہ کرایا اور فی الحال معاملہ ختم ہو گیا ہے۔
نتیجہ
یہ ایک سماجی سبق ہے جو بتاتا ہے کہ رشتوں میں شفافیت اور اعتماد کتنا ضروری ہے۔