Advertisement

بھانجی کے پیار میں پاگل ہوا ماموں! طے ہوئی شادی تو کیا اتنا گندہ کام … 

بھانجی کے پیار میں پاگل ہوا ماموں! طے ہوئی شادی تو کیا اتنا گندہ کام … 

اتر پردیش کے شہر بھدوہی میں ایک ایسے واقعے نے سب کو چونکا دیا ہے جہاں رشتوں کا تقدس پامال ہو گیا۔ ایک ماموں نے اپنی ہی بھانجی پر تیزاب پھینک کر نہ صرف اسے زخمی کر دیا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ یک طرفہ محبت کا جنون کس حد تک جا سکتا ہے۔ یہ پورا معاملہ کیا ہے اور کیوں ہوا؟ آئیے اس کی تفصیلات جانتے ہیں۔

Advertisement

یک طرفہ محبت کا بھیانک انجام

یہ واقعہ بھدوہی کے اورائی تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں ملزم، مکیش، ایک لڑکی سے یک طرفہ محبت کرتا تھا جو رشتے میں اس کی بھانجی تھی۔ جب خاندان والوں نے لڑکی کی شادی کہیں اور طے کرنے کا فیصلہ کیا تو مکیش کو یہ بات برداشت نہیں ہوئی۔ اس نے منگنی توڑنے کی منصوبہ بندی کی اور اتوار کی صبح لڑکی کے گھر پہنچ گیا۔

Advertisement

خوفناک حملہ اور پھر فرار

جس وقت یہ خوفناک واقعہ پیش آیا، لڑکی گھر میں سو رہی تھی۔ مکیش نے اسی وقت کھڑکی سے اس پر تیزاب پھینک دیا۔ حملے کے دوران، اس نے لڑکی کو گالیاں دیں اور قتل کرنے کی دھمکی دے کر فرار ہو گیا۔ تیزاب چہرے اور ہاتھوں پر پڑتے ہی لڑکی درد سے چیخنے لگی۔ شور سن کر، اس کے گھر والے اس کی طرف دوڑے اور اسے فوری طور پر اسپتال لے گئے، جہاں اس کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

ملزم مکیش پولیس کی گرفت میں کیسے آیا؟

واقعے کے بعد، لڑکی کے خاندان نے اورائی تھانے میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کی اور ملزم، مکیش، کی تلاش شروع کر دی۔ ایک مخبر کی اطلاع پر، پولیس نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو مکیش نے پولیس پر گولی چلانے کی کوشش کی۔ اپنے دفاع میں، ایک پولیس افسر نے ایک گولی چلائی جو مکیش کی ٹانگ میں لگی، اور اسے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ مکیش کا علاج اس وقت اورائی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں جاری ہے، اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

تیزاب کے حملے اور ان کے قانونی پہلو

تیزاب پھینکنا ایک سنگین جرم ہے جس کی سزائیں انتہائی سخت ہیں۔ قانون میں اس جرم کے خلاف مضبوط دفعات موجود ہیں، جن کا مقصد متاثرین کو انصاف دلانا ہے۔ اس طرح کے جرائم معاشرے کے لیے ایک بدنما داغ ہیں، اور ان کی روک تھام کے لیے نہ صرف پولیس کو چوکنا رہنا چاہیے بلکہ معاشرتی بیداری بھی بہت ضروری ہے۔

کیا ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہے؟

اس طرح کے واقعات شادی میں رکاوٹ اور یک طرفہ محبت جیسے جذبات سے جنم لیتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں رشتوں کی اہمیت اور تقدس کا درس دیا جائے تاکہ کوئی بھی جذباتی جنون میں آ کر ایسے گھناؤنے اقدامات نہ اٹھائے۔ خاندانوں کو بھی اپنے بچوں کی جذباتی حالت پر نظر رکھنی چاہیے اور انہیں صحیح رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

ہماری رائے:

کیا ایسے جنونی رویوں کے خلاف مزید سخت قوانین بننے چاہئیں؟ براہ کرم اپنی رائے تبصروں میں شیئر کریں۔

Leave a Comment