Advertisement

آٹو ڈرائیور نے نوکری کے بہانے 8 ماہ تک لڑکی کو بنایا درندگی کا نشانہ

آٹو ڈرائیور نے نوکری کے بہانے 8 ماہ تک لڑکی کو بنایا درندگی کا نشانہ

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نوکری کی تلاش میں گھر چھوڑ کر جانا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟ ایک ایسا ہی چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان خاتون کو نوکری کے جھوٹے وعدے میں پھنسا کر 8 مہینوں تک بے رحمی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ انسانیت کو شرمسار کرتا ہے اور اس پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

Advertisement

متاثرہ کیسے جال میں پھنسی؟

یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک نوجوان خاتون، خاندانی غلط فہمی کی وجہ سے گزشتہ نومبر میں اکیلی سورت ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ وہ پریشان اور تنہا تھی، اور اسی دوران اس کی ملاقات ایک 26 سالہ شخص سے ہوئی۔ یہ شخص، جو خود کو ایک شریف اور نیک انسان ظاہر کر رہا تھا، اصل میں اتر پردیش کے جونپور ضلع کا رہنے والا تھا اور سورت میں آٹو ڈرائیور کا کام کرتا تھا۔ اس نے لڑکی کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا، ہمدردی کا دکھاوا کیا، اور اسے نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔ اسی بہانے وہ لڑکی کو اپنے گھر لے گیا۔ وہاں پہنچ کر ملزم نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا اور لڑکی کو خوفزدہ کر کے قید کر لیا۔

Advertisement

8 ماہ تک جنسی زیادتی اور پولیس کا ایکشن

پولیس کے مطابق، لڑکی کو کئی مہینوں تک اس کے گھر میں قید رکھا گیا، اور ملزم نے زبردستی اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے۔ عصمت دری کا یہ واقعہ آٹھ مہینوں تک جاری رہا۔ اوڈیشہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو سورت سے گرفتار کر لیا۔ اوڈیشہ پولیس نے پہلے ملزم کو سورت کی عدالت میں پیش کیا اور پھر اسے ٹرانزٹ ریمانڈ پر برہما پور، اوڈیشہ لایا گیا۔ ملزم کو منگل کی رات برہما پور کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ متاثرہ کو انصاف ملے۔

ایک اہم سوال اور پیغام

یہ واقعہ نوکری کے بہانے انسانی اسمگلنگ اور استحصال جیسے جرائم کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کہانی ان تمام نوجوان خواتین کے لیے ایک انتباہ ہے جو اکیلی نوکری کی تلاش میں گھر سے دور سفر کرتی ہیں۔ کسی بھی اجنبی پر بھروسہ کرنے سے پہلے ہمیشہ محتاط رہیں اور ان کی باتوں میں آنے سے گریز کریں۔ آپ کے خیال میں ایسے جرائم کو روکنے کے لیے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں۔

Leave a Comment