سکول کے ننھے فرشتے اور محفل میلاد کی خوشبو – دل کو چھو لینے والی داستان
وہ ایک خوبصورت اور روشن صبح تھی۔ سورج نرم کرنوں کے ساتھ آسمان پر چمک رہا تھا اور ہر گھر میں خوشی اور مصروفیت کا سماں تھا۔ مائیں اپنے ننھے فرشتوں کو پیار سے جگا رہی تھیں۔ کہیں بیٹا آنکھیں ملتا ہوا بستر سے اٹھ رہا تھا اور کہیں بیٹی اپنی ماں کی گود میں ہنستی مسکراتی تیار ہو رہی تھی۔ آج کا دن خاص تھا کیونکہ اسکول میں محفل میلاد کی تقریب تھی۔
بچوں کے چہروں پر خوشی اور جوش واضح نظر آ رہا تھا۔ کوئی اپنی پسندیدہ نعت گنگنا رہا تھا تو کوئی جلدی جلدی جوتے پالش کر رہا تھا تاکہ آج سب کے سامنے چمکدار نظر آئے۔ مائیں بھی اپنے بچوں کو خاص محبت اور خیال سے تیار کر رہی تھیں۔ کسی ننھی پری کے ہاتھوں میں مہندی کی خوشبو تھی، تو کوئی ننھا شہزادہ نیا یونیفارم پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ان سب کی معصوم آنکھوں میں خواب اور خوشیاں چھپی تھیں، جو آج اسکول میں پوری ہونے والی تھیں۔ مگر شاید کچھ بچوں نے ناشتہ بھی نہ کیا، خوشی میں بھوک کا احساس ہی نہیں رہا تھا۔
یہ منظر کسی بھی ماں کے دل کو نرم کر دیتا ہے۔ ننھے فرشتے بنا ناشتہ کیے ہنسی خوشی اسکول روانہ ہوئے۔ ان کے معصوم چہرے کھلتے گلاب کی مانند لگ رہے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوگا۔
محفل میلاد کی پرنور محفل
اسکول پہنچتے ہی خوشی مزید بڑھ گئی۔ سفید کپڑوں میں ملبوس بچے، ہاتھوں میں درود شریف کے کارڈ اور بچیاں دوپٹے اوڑھے اپنی باری کے انتظار میں تھیں۔ جیسے ہی محفل شروع ہوئی، درود و سلام کی آوازیں پورے اسکول میں گونجنے لگیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے رحمت کے فرشتے آسمان سے اتر آئے ہوں اور ہر دل عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا ہو۔
یہ منظر دل کو سکون دینے والا تھا۔ لیکن خوشی کا یہ لمحہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اچانک ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو غم میں ڈبو دیا۔
صدمے اور غم کی فضا
حادثے کی خبر سنتے ہی ہر طرف کہرام مچ گیا۔ وہی ہنستے مسکراتے چہرے، جو چند لمحے پہلے خوشیوں میں ڈوبے تھے، اچانک خاموش ہو گئے۔ والدین کے خواب بکھر گئے، گھروں میں چیخ و پکار گونجنے لگی۔ مائیں، جنہوں نے صبح پیار سے اپنے بچوں کو رخصت کیا تھا، اب ان کے کپڑوں کو آنسوؤں سے بھگو رہی تھیں۔
یہ منظر کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ہر دل زخمی، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ بچے جو آج نعتیں پڑھنے کے لیے گئے تھے، اب صرف یادوں کا حصہ رہ گئے تھے۔ یہ غم کسی ایک گھر کا نہیں تھا بلکہ پورے معاشرے کا غم بن گیا تھا۔
سبق اور پیغام
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کتنی ناپائیدار اور غیر یقینی ہے۔ ہمیں ہر دن اپنے بچوں کو محبت اور دعا کے ساتھ رخصت کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ اسکول انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے تاکہ ایسے سانحات دوبارہ نہ ہوں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو ہر صبح حوصلہ دیں اور ان کے خوابوں کی قدر کریں۔ معاشرتی سطح پر والدین اور اساتذہ کو مل کر حفاظتی پلان تیار کرنے چاہئیں۔ حکومت کو بھی تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ والدین مطمئن رہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ ایسے واقعات کو اجاگر کرے تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر ہمیں دعا اور صبر کے ساتھ اپنی کمیونٹی کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ دکھ کے وقت ہم ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں۔
دعا اور حوصلہ
ہم سب دعا گو ہیں کہ اللہ ان ننھے فرشتوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور والدین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور معاشرتی نظام کو مزید محفوظ اور مضبوط بنانا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی خوشیوں بھری صبح غم میں نہ بدلے۔