انا للہ وانا الیہ راجعون: سرنکوٹ مدانہ کے دو بھائی عید میلاد النبی ﷺ کے دن حادثے میں جاں بحق
سرنکوٹ مدانہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان بھائی عید میلاد النبی ﷺ کے بابرکت دن اپنی والدہ کے لیے دوا لینے نکلے، مگر یہ دن ان کے گھر کے لیے مسرت کے بجائے غم اور اندوہ کی خبر لے آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق والدہ کی طبیعت اچانک بگڑنے پر دونوں بھائی شہر کی جانب روانہ ہوئے تھے، لیکن راستے میں پیش آنے والے ہولناک حادثے نے ان کی زندگیاں چھین لیں۔ اس سانحے نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے گاؤں کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔
حادثے کا پس منظر
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں بھائی موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے زور دار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور محتاط رہتا اور قوانین کی پاسداری کرتا تو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا۔
والدہ پر قیامت
جب یہ افسوسناک خبر دونوں کی والدہ تک پہنچی تو ان پر غشی طاری ہوگئی۔ عید میلاد النبی ﷺ کا دن جو ان کے لیے خوشیوں کا دن ہونا چاہیے تھا، اس کی جگہ قیامت کا منظر بن گیا۔ گھر ماتم کدہ میں بدل گیا اور عزیز و اقارب کی آہیں اور بین پورے ماحول کو سوگوار کر گئے۔
گاؤں میں سوگ کی فضا
مدانہ اور اطراف کے گاؤں میں اس حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ یہ سن کر دہل گئے کہ دو نوجوان، جو اپنی ماں کی خدمت کے لیے دوا لینے گئے تھے، واپس زندہ نہ آ سکے۔ گاؤں کے بزرگوں نے کہا کہ دونوں بھائی اپنی نیک سیرت اور فرمانبرداری کی وجہ سے سب کے دلوں کو عزیز تھے۔ ان کی موت نے ہر دل کو غمگین کر دیا۔
ٹریفک حادثات: ایک بڑھتا ہوا المیہ
پاکستان میں آئے روز ٹریفک حادثات درجنوں قیمتی جانیں نگل لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں بے احتیاطی، اوور اسپیڈنگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور سڑکوں کی خستہ حالی شامل ہیں۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے المناک سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تدفین کے مناظر
دونوں بھائیوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ فضا انا للہ وانا الیہ راجعون کی صداؤں سے گونج رہی تھی۔ تدفین کے وقت ایک کربناک منظر سامنے آیا جب والدہ اپنے بیٹوں کی قبروں پر گریہ کر رہی تھیں۔ اس وقت ہر آنکھ اشکبار تھی اور کوئی بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اہلِ خانہ اور رشتہ دار ماں کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ بار بار بیہوش ہو جاتی تھیں۔ بزرگ خواتین چیخ و پکار کر کے نوحہ کرتی رہیں جس سے ماحول مزید سوگوار ہو گیا۔ قبرستان میں جمع لوگ ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے باوجود اپنی آنکھوں کے آنسو روک نہ سکے۔ نوجوان دوست اور ساتھی اپنے ہم عمر بھائیوں کی ناگہانی موت پر شکوے کرتے رہے کہ یہ حادثہ ٹالا جا سکتا تھا۔ پورے علاقے میں یہ منظر دیکھنے والا ہر شخص گہری سوچ میں ڈوبا نظر آیا اور زندگی کی بے ثباتی پر افسوس کرتا رہا۔
عوامی مطالبہ
علاقے کے باسیوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود یوں خالی نہ ہو۔
نتیجہ
یہ واقعہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ زندگی کتنی غیر یقینی ہے۔ ایک لمحہ خوشی کا ہوتا ہے تو دوسرے لمحے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ سرنکوٹ مدانہ کے یہ دونوں بھائی نہ صرف اپنے خاندان کے لیے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک کڑی آزمائش چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے والدین و اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔